BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 October, 2004, 06:59 GMT 11:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی فلموں کے پاکستانی ’پارٹ ٹو‘

۔
پا کستان میں بھارتی فلموں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ یہاں نہ صرف ان فلموں کے پائریٹڈ وڈیو کیسٹ، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز‏کرائے پر محض دس سے پندرہ روپے پر آسانی دستیاب ہیں بلکہ یہی وڈیوسی ڈیز اور ڈی وی ڈیز مقامی کیبل ٹی وی نیٹ روک پر باقاعدگی سے نشربھی کی جاتی ہیں۔ ـ

مگر اب بھارتی فلموں کے ساتھ ساتھ ان کی پاکستانی نقلیں بھی اب سی ڈیز اور
ڈی وی ڈیز پردستیاب ہیں۔ ان نقول کو ’ریمکس‘ یا ’پارٹ ٹو ایڈیشن‘ کا نام دیا جاتا ہے اور ان میں مقامی کمرشل تھیٹر اور اسٹیج کے فنکار کسی مخصوص بھارتی فلم کی چربہ نقل پیش کرتے ہیں۔

آخر بھارتی فلموں کی اس نویت کی نقلیں بنانے کا مقصد کیا ہے؟ مقامی کمرشل تھیٹر اور اسٹیج ڈراموں کا گرتے ہوئے معیار اور کیبل ٹی وی چینلز کی صورت میں متبادل ذرا‏ئع تفریح کی موجودگی نے عوام کا کمرشل تھیٹر کی جانب رجحان کم کردیا ہے۔ اس صورتحال میں کمرشل تھیٹر کے فنکاروں نے اپنی معاشی حالت بہتر کرنے اور گھر بیٹھے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھارتی فلموں کی پیروڈی یا نقلیں بنانی شروع کیں۔ ان چربہ فلموں میں کہانی اور کردار سے لے کرگانوں اور رقص تک حقیقی فلم سے ہو بہو نقل ہوتی ہے، فرق اگر ہوتا ہے تو زبان اور پروڈکشن کے معیار کا۔

۔
بیشتر مقامی کمرشل اسٹیج ڈراموں کی طرح ان ’ریمکس‘ فلموں کے مکالمے ‏‏غیر مہذب اور فحش ہوتے ہیں۔ اس نویت کی ایک فلم ایک مہینے میں تیار ہو جاتی ہے جس کی تیاری پر دو سے تین لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے۔

ان پیروڈی فلموں میں تیرے نام پارٹ ٹو سب سے پہلے منظر عام پر آئی۔ یہ فلم گزشتہ سال کی باکس آفس پر کامیاب ہونے والی بھارتی فلم تیرے نام ، جس کے نمایاں ستارے سلمان خان اور بھومیکا چاولہ تھے، کی نقل ہے۔

تیرے نام پارٹ ٹو میں مرکزی کردار کراچی کے کمرشل تھیٹر کے فنکار سکندر صنم نے ادا کیا ہے۔ وہ بھارتی فلموں کی پیروڈی فلموں کو اسٹیج ڈرامے کا ایک نیا روپ سمجھتے ہیں۔

سکندر صنم کے مطابق بھارتی فلموں کی پیروڈی کی شروعات اسٹیج پرمزاحیہ خاکوں سے ہوئی جسکے بعد پوری فلم بنانے کے بارے میں سوچا گیا۔ تیرے نام پارٹ ٹو کے بعد مزید بھارتی فلموں کی نقلیں بھی بنائی گئی ہیں جن میں شعلے، منّا بھائی ایم بی بی ایس ، ڈر، کھل نائیک و‏غیرہ شامل ہیں۔

بھارتی فلموں کی نقلیں صرف کراچی کمرشل تھیٹر کے فنکاروں تک محدود نہیں ہیں ـ لاہور کے اسٹیج کے فنکاروں نے بھی دیوداس پارٹ ٹو کے نام سے ایک فلم کی سی ڈی اور ڈی وی ڈی تیار کی ہے۔ یہ فلم سنجے لیلا بھنسالی کی کثیر بجٹ سےتیار ہونے والی فلم دیوداس کی ایک ‏غیر معیاری پیروڈی ہے۔

اگر ایک طرح سے دیکھا جائےتو پیروڈی اور مزاح کے نام پر تیارہونے والی مشہور بھارتی فلموں کی یہ غیر اخلاقی اور فحش مکالموں سے بھرپور نقلیں، کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد