محبوب کیلیےقربانی، بڑے بھائی سےشادی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست گجرات میں ایک انیس سالہ لڑکی نے اپنے محبوب کے بڑے بھائی سے محض اس لیے شادی کی ہے تاکہ وہ اور ان کا محبوب ایک گھر میں رہ سکیں۔ سنیہا پٹیل اور ان کےمحبوب یش پارمر نے بتایا کہ وہ دونوں قانونی طور پر میاں بیوی نہیں بن سکتے۔ یش انیس سال کے ہیں جبکہ بھارت کے قانون میں خواتین کے لیے شادی کی عمر اٹھارہ سال جبکہ مردوں کی اکیس سال ہے۔ یش کے بڑے بھائی دھرمیش اس بات پر راضی ہیں کہ یش کی شادی کی عمر ہوتے ہی وہ سنیہا کو طلاق دے دیں گے۔ دھرمیش اور سنیہا کی شادی جون میں ہوئی۔ یش اور دھرمیش دونوں کالج کے طالب علم ہیں اور ان کے والدین کشن پارمر اور انجولا پارمر اس شادی پر راضی ہیں۔ لیکن اس تمام صورت حال سے سہنیا کی بیوہ ماں کیلاش پٹیل ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کیا ہو گا کہ جب دو سال بعد دھرمیش سنیہا کو طلاق دینے یا یش اس سے شادی کرنے سے انکار کردے گا۔ یش کا تعلق نچلی ذات سے ہے اور سنیہا کی ماں اس وجہ سے اس رشتہ پر راضی نہیں۔ ماں کی اس رشتے پر ناراضگی کے بعد سنیہا گھر چھوڑ کر چلی گئی تو ان کی والدہ نے ان کی گمشدگی کے حوالے سے پولیس سے رابطہ کیا۔ پولیس انسپکٹر ایچ بی راجپوت جو اس معاملے کی تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ اس معاملہ کی تفتیش کے لیے پارمر خاندان کے گھر گئے تو انہیں دھرمیش اور سنیہا کی شادی کے قانونی کاغذات دیکھائے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ وہ کاغذات کے جن کی رو سے دھرمیش دو سال کے بعد سنیہا کو طلاق دے دیں گےانہیں پوشیدہ رکھا جارہا ہے۔ سنیہا کا کہنا ہے کہ دھرمیش نے ان کے لیے بڑی قربانی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے شک کاغذات میں دھرمیش ان کے شوہر ہیں مگر وہ انہیں اپنے محبوب کا بھائی بلکہ ایک بھائی کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||