مغربی جوڑوں کی بھارتی شادیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں بھارت جا کر ہندو رسم ورواج کے مطابق شادی کرنے والے مغربی جوڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بھارتی رواج اور مقدس رسموں سے ان کے رشتے اور مضبوط ہو جائیں گے۔ ایسی شادیوں کے لیے زیادہ تر جوڑے راجستھان کے شہر جےپور جانا پسند کرتے ہیں۔ مارکوس اور الامسا سوٹزرلینڈ میں رہتے ہیں، مگر شادی کرنے کے لیے جے پور آئے تھے۔ شادی ایک بڑی ہویلی میں ہندو رسم و رواج کے مطابق کی گئی۔ مقدس آگ کے سامنے، پنڈتوں نے منتر پڑھے اور مارکوس اور الامسا نے آگ کے گرد سات پھیرے لگائے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مارکوس اور الامسا کے لئے ان منتروں کا وزن مغربی رسموں سے کئی زیادہ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ان کی شادی ان رسموں کے مطابق کی جائے گی تو ان کا رشتہ اور مضبوط ہو جائےگا۔ بھارتی لباس پہنے ہوئے مارکوس بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ شادی مغربی شادیوں سے بہت مختلف ہے۔ یہ رنگوں، رسموں اور موسیقی سے بھری ہوئی ہے۔‘ الامسا نے روایتی بھارتی لباس پہنا تھا اور ان کے ہاتھوں میں مہندی رچی ہوئی تھی۔ الامسا کو بھارتی رسم ورواج پر پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ بد قسمتی سے مغربی شادیاں زیادہ دیر تک نہیں چلتیں۔‘ مارکوس اور الامسا کی شادی کی ترتیب ٹریول ایجنٹ ورن کھنا نے کی تھی اور انہوں نے ہی الامسا کا ’ کنیادان‘ بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی شادیوں کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی اور ٹریول ایجنٹ بھی مغربی جوڑوں کے لیے بھارت میں شادیاں رچا رہے ہیں۔ راجستھان کی ایک ٹریول ایجنسی کے سریش کمار کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں رہنے والے بھارتی جوڑے بھی بھارت آکر شادی کرنا پسند کرتے ہیں۔ جےپور کے علاوہ پشکر، ادیپور اور جیسلمیر میں بھی کئی جوڑے شادی کروانے کے ارادے سے آتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||