’مذاکرات کیلیےمناسب وقت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی وزیرِاعظم کی طرف سے دی جانے والی بات چیت کی دعوت مسترد کر دی ہے۔ وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کو فروری کی پچیس تاریخ کو ایک گول میز کانفرنس کی دعوت دی تھی۔ حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مذاکرات کے لیے’ ابھی مناسب وقت‘ نہیں ہے۔ سرینگر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’ اس طرح کے راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک ہندو ستان۔پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی حکومت اور کشمیری رہنماؤں کے درمیان بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ جائے‘۔ تاہم علیحدگی پسند رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کی مخالفت نہیں کرتے۔ مذاکرات میں میں حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے شبیر شاہ، پیپلز کانفرنس کے سجاد لون ، جے کے ایل ایف کے یٰسین ملک کے علاوہ بھارت نواز تنظیموں اور جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی پہلے ہی ان گول میز مذاکرات کی دعوت ٹھکرا چکے ہیں اور شدت پسند تنظیموں نے بھی ان مجوزہ راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کو بے معنی قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کی دعوت 15 February, 2006 | انڈیا میر واعظ پہلی بار جموں میں02 February, 2006 | انڈیا لون کو منموہن سنگھ کی دعوت10 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||