BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 March, 2006, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان

دفترِ خارجہ
پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار ہے: تسنیم اسلم
پاکستان نے بھارت کی جانب سے شدت پسندوں کو پناہ دینے کے بارے میں الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

پیر کے روز دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ’ ہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار ہے‘۔

بھارت کے قومی سلامتی کے امور کے مشیر این کے نارائن نے اتوار کے روز پاکستان پر شدت پسند جہادیوں کے ذریعے بھارت میں مذہبی فسادات کا الزام عائد کیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کچھ کر رہا ہے اور انہیں عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جاچکا ہے۔

مسئلہ کشمیر کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جیسا کہ صدر مشرف کہہ چکے ہیں کہ اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے ’آؤٹ آف باکس‘ سوچنا ہوگا اور ایسا حل تجویز کرنا ہوگا جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

انہوں نے کہا پاکستان اس بارے میں دونوں جانب کے کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے، پاکستان اور بھارت کے مشترکہ کنٹرول میں دینے اور ’سیلف رول‘ جیسی تجاویز پیش کرچکا ہے اور دونوں جانب کی کشمیری قیادت ان کا خیرمقدم بھی کرچکی ہے۔

لیکن ان کے مطابق پاکستان کے زور دینے کے باوجود بھی بھارت نے ان کا تاحال کوئی سنجیدہ جواب نہیں دیا۔انہوں نے ایک بار پھر ہندوستان سے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار کرے اور ’سٹیٹس کو‘ سے ہٹ کر نئی تجاویز سامنے لائے۔

کنٹرول لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنے سے ایک بار پھر انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سٹیٹس کو‘ مسئلے کا ہرگز حل نہیں ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مشترکہ کمیشن کے تحت ورکنگ گروپس کی تعداد چار سے بڑھا کر آٹھ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی اور سیاحت کے بارے میں ان گروپس کا اجلاس اکیس اور بائیس مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا۔

بھارت میں قید پاکستانیوں کے متعلق سوال پر تسنیم اسلم نے بتایا کہ پانچ سو چالیس کے قریب قیدیوں میں سے تاحال بھارتی حکومت نے دو سو کے قریب قیدیوں تک رسائی دی ہے اور پاکستان نے ان میں سے ایک سو پانچ قیدیوں کی شہریت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا جلد سے جلد پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوشش جاری ہے۔

اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی موجودگی کے متعلق انہوں نے کہا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے سرحد پار شدت پسندی سمیت مختلف معاملات کے بارے میں افغانستان کے وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کے الزامات کے بارے میں کہا ’ پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف دوسرے ممالک سے زیادہ کارروائی کی ہے اور اس بارے میں ہمیں کسی سے سند لینے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد