BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 January, 2006, 00:58 GMT 05:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت کو امریکی سفیر کی تنبیہہ
بھابھا ایٹمی پلانٹ
بھارت کےایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ نے اس کے خلاف پابندیاں لگا دی تھیں
دِلّی میں امریکی سفیر نے بھارت پر زور دیا ہے کہ اگر اس نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف ووٹ نہ دیا تو اس کا امریکہ کے ساتھ جوہری توانائی کا معاہدہ متاثر ہو سکتا ہے۔

امریکی سفیر ڈیوڈ ملفورڈ نے کہا کہ ایران کے مسئلے پر بھارت کی حمایت نہ ملنے کی صورت میں بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا تاریخی معاہدہ ’امریکی کانگریس میں ہی ختم ہو سکتا ہے‘۔

دریں اثنا امریکی محکمۂ خارجہ نے اپنے سفیر کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملفورڈ محض امریکی کانگریس میں ایران کے مسئلے پر پائے جانے والے جذبات کی عکاسی کر رہے تھے۔

امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کر رہا ہے اور اس کے خلاف کارروائی چاہتا ہے۔

بھارت نے امریکہ سے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاملے کو ایران کے ساتھ مشروط کرنے کی کوشش کو مسترد کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر بھارت آزادانہ رائے قائم کرے گا۔

امریکہ نے گزشتہ سال بھارت کے خلاف پابندیاں ختم کر دیں تھیں جو اس نے انیس سو اٹھانوے کے ایٹمی دھماکوں کے بعد لگائی تھیں اور بھارت کو پر امن ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ صدر جارج بُش اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔

امریکی سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے میں جب ایران کے مسئلے پر بحث ہو تو بھارت امریکی موقف کی حمایت کرے۔

بھارت کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق امریکی سفیر نے کہا کہ بھارت دنیا کا انتہائی اہم ملک ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر بھارت ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی مخالفت کرتا ہے تو اسے اس بات کا اظہار ایران کے خلاف ووٹ دے کر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے ایسا نہ کیا تو امریکی کانگریس کے ارکان پر بہت برا اثر پڑے گا جنہوں نے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاملے کی منظوری دینی ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ ’میرے خیال میں کانگریس اس معاملے کو بالکل بھول جائے گی۔ میرے خیال میں یہ معاملہ اس لیے ختم نہیں ہو جائے گا کہ یہ امریکی انتظامیہ کی خواہش تھی‘۔

اسی بارے میں
آئی اے ای اے کی قرارداد
24 September, 2005 | صفحۂ اول
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد