بلیئر نے ایران پر سوال اٹھایا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ عراق میں برطانوی فوجیوں پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح ہے کہ عراق میں نئی قسم کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے جو ایرانی یا حزب اللہ کے عناصر کی طرف اشارہ کرتا ہے ’لیکن ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ بلیئر عراق کے صدر جلال طلبانی کے ساتھ لندن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ایران نے برطانوی فوجیوں پر ہونےوالے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے جس میں آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم بلیئر کا بیان اس برطانوی اعلیٰ اہلکار سے زیادہ مصلحت آمیز تھاجس نے ایک روز پہلے بریفنگ دی تھی۔ عراقی صدر طلبانی نے ایران کے خلاف تازہ ترین برطانوی الزامات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’میں نے ذاتی طور کچھ ایرانی بھائیوں سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے اس کی تردید کی ہے‘۔ طلبانی نے کہا کہ ایرانیوں نے ان سے کہا ہے کہ وہ عراق کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ اپنے اختلافات عراق پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور عراق کے صدر جلال طلبانی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ برطانوی فوج عراق میں رہنی چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی جمعرات کو لندن میں ایک ایسے وقت میں ملاقات ہوئی ہے جب عراق میں غیر ملکی افواج کی موجودگی پر برطانیہ میں بحث جاری ہے۔ جلال طلبانی نے کہا کہ غیر ملکی فوج کا جلد انخلاء جمہوریت کے لیے تباہ کن اور ’دہشت گردی‘ کی فتح ہوگا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ مغرب کو اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ مزاحمت کاروں کو عراقیوں کی آزادی کی خواہش کو دبانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||