جوہری معاہدے پر امریکہ میں تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بُش نے بھارت کے ساتھ جس متنازعہ جوہری معاہدے پر دستخط کیے ہیں اس پر امریکی کانگریس میں تنقید کی گئی ہے جس کی منظوری کے بغیر اس پر عمل نہیں کیا جا سکے گا۔ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک پر جو جوہری عزائم رکھتے ہیں دباؤ ڈالنے کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ صدر بُش کی اپنی جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکان نے بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس معاہدے کو بھارت کے ساتھ نئی شراکت کا اہم ستون سمجھتی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ صدر بُش بھی بھارت سے پاکستان روانہ ہونے سے قبل یہی بات کریں گے۔ معاہدے کی رُو سے بھارت کو عسکری اور شہری پروگرام علیحدہ رکھنے کی ضمانت دینے اور محدود پیمانے پر عالمی مانیٹرنگ قبول کرنے پر امریکی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ | اسی بارے میں بھارت-امریکہ جوہری معاہدہ اور مشکلات21 January, 2006 | انڈیا فرانس اور بھارت کا جوہری معاہدہ20 February, 2006 | انڈیا ایران کےخلاف ووٹ پر سخت ردِ عمل 05 February, 2006 | انڈیا ’فیصلہ امریکہ نہیں ہم کریں گے‘27 February, 2006 | انڈیا بش کے استقبال اور احتجاج کی تیاریاں28 February, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا بش کے دورے کے خلاف مظاہرے02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||