ایران کےخلاف ووٹ پر سخت ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مرکزی حکومت کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتوں نے اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے میں بھارت کا ووٹ ایران کے خلاف دیئے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات کے بعد مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرکاش کارت نے حکومت سے اس فیصلے پر پارلیمنٹ کے آئندہ بجٹ سیشن میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر کارت کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد کسی بھی صورت میں ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت نہيں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد موجودہ صورت حال ميں مزید پیچیدگی کا سبب بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کا اس ووٹ سے زیادہ مارچ میں دیئے جانے والا ووٹ اہمیت رکھتا ہے۔ ’ہم چاہتے ہيں کہ ہندوستان ایران کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجے جانے میں کسی طرح کا حصہ نہ لے۔‘ کارت نے یہ بھی کہا کہ مارچ سے قبل فروری میں پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں اس معاملے میں بحث کی جائے گی۔ ’بحث میں اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ ہندوستان کی سیاسی جماعتیں اور ہندوستان کے عوام ایران کے معاملے میں حکومت سے کیا توقع رکھتے ہیں۔‘ بائيں بازو کی جماعتوں نے حکومت کو یہ واضح لفظوں ميں بتایا تھا کہ وہ ایران کے جوہری معاملے میں ہندوستان کا ایران کے خلاف ووٹ برداشت نہیں کريں گی۔ دریں اثنا بھارت کے وزارت خارجہ نے آئی اے ای اے میں بھارتی ووٹ کا دفاع کیا ہے اور آئي اے ای اے کی قرارداد کو’متوازن‘ قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کا فیصلہ تو کر لیا گیا ہے لیکن آئی اے ائی اے بھی ایران کے جوہری معاملے پر اپنی نظر رکھے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کا غلط مطلب نہيں نکالا جانا چاہیے۔ اس ووٹ کے بعد بھارت اور ایران کے درمیان روایتی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ بیان میں ایران سے آئی اے ای اے کی قراردار پر مثبت رد عمل کا اظہار کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نےامریکہ کے دباؤ میں آکر ایران کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ملفرڈ نے کہا تھا کہ اگر بھارت ہند امریکہ معاہدے کی منظوری چاہتا ہے تو وہ امریکہ کی حمایت کرے۔ ایران کے معاملے پر نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے ریسرچ پروفسر بھرت کرناڈ کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے رشتوں میں تھوڑی تلخی تو ضرور آئے گی لیکن اس سے دونوں ملکوں کے روایتی اور پرانے رشتوں پر کچھ خاص اثر نہیں پڑے گا۔ | اسی بارے میں ’ایران سے معاہدے برقرار ہیں‘28 September, 2005 | انڈیا ’ایران مخالف ووٹ امریکی دباؤ‘ 25 September, 2005 | انڈیا ہند امریکہ تعلقات پر ایران کا سایہ21 September, 2005 | انڈیا ’بھارت ایران پراپنامؤقف ظاہر کرے‘15 September, 2005 | انڈیا ’ایران پر اپنا موقف ظاہر کرے‘14 September, 2005 | انڈیا پائپ لائن امن کا پیغام لائےگي: ایران29 December, 2005 | انڈیا ایران تنازعہ:امریکی سفیر کی طلبی27 January, 2006 | انڈیا ایران کےمسئلے کا سفارتی حل چاہیے01 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||