’بھارت ایران پراپنامؤقف ظاہر کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کےصدر جارج ڈبلیو بش نے ایران کے جوہری تنازعہ کے پس منظر ميں ہند ایران تعلقات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں مسٹر سنگھ کے اس بیان پر حزب اختلاف نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھارت اور امریکہ کے درمیان حالیہ جوہری معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ نیویارک میں منموہن سنگھ سے ملاقات کے دوران صدر بش نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھارت کے مؤقف پر تشویش ظاہر کی۔ مسٹر سنگھ نےاگر چہ ایک بار پھریہ بتانے کی کوشش کی کہ بھارت جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کےخلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی عدم توسیع سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور ضابطوں کی پابندی کرنی ہو گی لیکن امریکہ کی تشویش برقرار ہے۔
صدر بش نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو جوہری معاہد ہ ہوا ہے اسے وہ کانگریس سے منظور کرانے کی کوشش کریں گے- لیکن بعض ارکان پارلیمان یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر بھارت نے ایران کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو یہ معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے- ایران کے معاملے میں امریکہ کی طرف سے زبردست دباؤ ہے۔ ابھی چند دنوں قبل بھارت سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ اس معاہدے کے تحت اپنی جوہری تنصیبات کی فہرست تیار کرے کہ کون سی تنصیب فوجی ہے اور کون سی غیر فوجی نوعیت کی ہے۔ 19 ستمبر کو بین الاقوامی ایٹمی انرجی تنظیم کا اجلاس ہے اور بھارت بھی اس کا رکن ہے۔ اس اجلاس میں بھارت کو اس وقت ووٹنگ میں حصہ لینا ہوگا جب ایران کے خلاف پابندی لگانے کے لیے اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی تجویز رکھی جائے گی۔
بھارت کو اپنی توانائی کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایران کی سخت ضرورت ہے لیکن موجودہ حالات میں بھارت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو ناراض کرنے کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا ۔ صدر بش سے ملاقات کے دوران مسٹر سنگھ کے اس بیان پر بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جس میں انہوں سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے بارے میں ہمیشہ اتفاق رائے رہا ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب کسی وزیر اعظم نے کسی دوسرے ملک میں اندرونی سیاست پر بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہندوستان پر امریکہ کے دباؤ کی واضح علامت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||