BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 September, 2005, 19:06 GMT 00:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران پر اپنا موقف ظاہر کرے‘

’پاکستان دہشت گردی کے بہاؤ کو ابھی تک کنٹرول کرتا ہے‘
امریکی نے جوہری تنازعہ کے پس منظر ميں ہندوستان ایران تعلقات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ سے تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکہ کے صدر جارچ ڈبلیو بش نے جوہری تنازعہ کے پس منظر ميں ہند،ایران تعلقات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ سے تشویش ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب ہندوستان میں مسٹر سنگھ کے اس بیان پر حزب اختلاف نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپیئی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ جوہری معاہدے کی مخالفت کی ہے۔

نیویارک میں منموہن سنگھ سے ملاقات کے دوران صدر بش نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہندوستان کے موقف پر تشویش ظاہر کی ہے۔

مسٹر سنگھ نے اگر چہ ایک بار پھریہ بتانے کی کوشش کی کہ ہندوستان جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ " ایران کو جوہری ہتھیاروں کی عدم توسیع سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور ضابطوں کی پابندی کرنی ہو گی-'' لیکن امریکہ کی تشویش برقرار ہے-

صدر بش نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان جو جوہری معاہد ہ ہوا ہے اسےوہ کانگریس سے منظور کرانے کی کوشش کریں گے-

لیکن بعض ارکان پارلیمان یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ہندوستان نے ایران کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو یہ معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے-

ایران کے معاملے میں امریکہ کی طرف سے زبردست دباؤ ہے - ابھی چند دنوں قبل ہندوستان سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ اس معاہدے کے تحت اپنی جوہری تنصیبات کی فہرست تیار کرے کہ کون سی تنصیب فوجی ہے اور کون سی غیر فوجی نوعیت کی ہے۔

انیس ستمبر کو بین الاقوامی ایٹمی انرجی تنظیم کی میٹنگ ہے اور ہندوستان بھی اس کا رکن ہے۔ اس میٹنگ میں ہندوستان کو اس وقت ووٹنگ میں حصہ لینا ہوگا جب ایران کے خلاف پابندی لگانے کے لئے اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی تجویز رکھی جائے گی۔

ہندوستان کو اپنی توانائی کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایران کی سخت ضرورت ہے لیکن وہ موجودہ حالات میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو ناراض کرنے کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا ۔

صدر بش سے ملاقات کے دوران مسٹر سنگھ کے اس بیان پر ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرف سے ہند۔امریکہ معاہدے کی مخالفت پر انھیں حیرت ہو‏ئی‏ تھی ۔

سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے بارے میں ہمیشہ اتفاق رائے رہا ہے اور ''یہ پہلا موقع ہے جب کسی وزیر اعظم نے کسی دوسرے ملک میں اندرونی سیاست پر بات کی ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ'' یہ ہندوستان پر امریکہ کے دباؤ کی واضح علامت ہے-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد