’ایران سے معاہدے برقرار ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے کہا ہے کہ ایران نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ ہندوستان کے ایک قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ہندوستان کے ساتھ تیل اور گیس سے متعلق تمام معاہدے ختم کر دیئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری نے ایران کے سفیر سے ملاقات کی ہے اور ان حالات کی وضاحت کی ہے جن کے تحت ہندوستان کو ایران کے خلاف ووٹ دینا پڑا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایران کے ساتھ اپنے قدیم و قریبی رشتوں کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ ہندوستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی کے اس بیان سے بھی واقف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران ان ملکوں کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات پر دوبارہ غور کرے گا جنہوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کے سفیر نے ہندوستان کے خارجہ سکریٹری سے ملاقات کے دوران اس طرح کا کوئی بھی اشارہ نہیں دیا تھا ۔ ہندوستان کے ایک سرکردہ اخبار میں آج یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی میں ایران کے جوہری معاملات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کرنے کے حق میں ہندستان کے ووٹ کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر 21 بلین ڈالر مالیت کے گیس کی سپلائی کے معاہدے کو ختم کر دیا ہے۔ اس معاملے میں حکومت کو خود ان کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتوں اور حزب اختلاف کی مخالفت کا سامناہے۔ بائيں بازو کی جماعتوں نے وزير اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے ۔ انکا کہناہے کہ ہندوستان نے یہ قدم امریکہ کے دباؤ میں اٹھایا ہے۔ لیکن ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس کے ووٹ کے سبب ایران کو اپنے جوہری پروگرام میں وضاحت کرنے کا مزید وقت ملا ہے اور اس کے اس فیصلے میں کسی دوسرے ملک کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||