BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 September, 2005, 02:56 GMT 07:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند امریکہ تعلقات پر ایران کا سایہ

بھارت ایران کا ساتھ دے کر امریکہ اور یورپی طاقتوں کی ناراضگی کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حال ہی میں دوستی کی نئی راہوں پر رواں دواں ہونے والے ہند امریکہ تعلقات ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے بھارتی موقف سے متاثر ہو رہے ہیں۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے ویانا میں ہونے والے اجلاس میں امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ اس کوشش میں ہیں کہ ایرانی جوہری پروگرام کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیج دیا جائے۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی طاقتوں نے اس سلسلے میں قرار داد کا ایک مسودہ بھی آئی اے ای اے بورڈ کے ارکان میں تقسیم کیا ہے جس پر اسی ہفتے رائے شماری کی توقع ہے۔

تاہم یہ ضروری نہیں کہ امریکہ اور یورپی طاقتوں کے پاس اس قرار داد کو منظور کرانے کے لیے مطلوبہ اکثریت بھی ہو کیونکہ روس، چین اور بھارت پہلی ہی ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

بھارت جس کی حمایت قرار داد کی منظوری کے لیے انتہائی اہم ہے تہران کو مزید مہلت دینے اور تنازعے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا حامی ہے۔

امریکہ کو ایرانی معاملے پر بھارتی موقف سے شدید حیرانی ہوئی ہے۔

واشنگٹن میں قائم نان پرولیفریشن پالیسی ایجوکیشن سنٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنری سوکولسکی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت قرارداد کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو اس سے امریکہ اور بھارت کے درمیان جولائی 2005 کو ہونے والے جوہری معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔

اس معاہدے کے بعد امریکہ پہلی بار بھارت کے سویلین جوہری پروگرام کی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے باوجود اس کے کہ بھارت نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

اس کے علاوہ دونوں ملکوں نے خلائی پروگرام اور دفاع کے شعبے میں ایک دوسری کے ساتھ تعاون پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

بھارت محسوس کرتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو نئی جہت ملی ہے لیکن ایران کے معاملے نے دونوں ملکوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اِسی ماہ امریکی کانگریس کے ارکان نے بش انتظامیہ کو بھارت کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کی بنا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

کانگریس کے ارکان نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھارت کے موقف پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔

بھارت اب سخت مشکل میں ہے۔ سن انیس سو چوہتر میں جوہری اسلحہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے لینے کے بعد اس کے پاس اس بات کا کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ وہ ایران سے اسے ترک کرنے کا مطالبہ کرے۔

دوسری طرف وہ ایران کا ساتھ دے کر امریکہ اور یورپی طاقتوں کی ناراضگی کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

بھارت کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے۔

فل الحال بھارت اپنی ضرورت کا 70 فی صد خام تیل درآمد کر رہا ہے اور اگر ملک کی معاشی ترقی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو سن 2020 تک اس کی توانائی کی ضرورت دوگنا ہو جائی گی۔ اس صورت حال میں بھارت کو ایران جیسے معدنی تیل اور گیس کی دولت سے مالامال ملک کی سخت ضرورت ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد