BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 September, 2005, 23:12 GMT 04:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’معاملہ سلامتی کونسل مت بھیجیں‘
روس اور چین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجسنی کے دائرے کے اندر طے کیا جاسکتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین کے وزراء خارجہ نے نیویارک میں بھارت کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ واپسی کی راہ بند ہوگئی ہو۔

ویانا سے جہاں جوہری توانائی کی ایجنسی کا اس ہفتے کا اجلاس ہورہا ہے، بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ روسی بیان یورپ اور امریکہ کو بہت مایوس کرے گا جو ایران کو سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔

جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل میں پیش ہونے کی صورت میں ایران پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

اُدھر ایران خبردار کرچکا ہے کہ اگر معاملہ سلامتی کونسل میں گیا تو وہ یورینئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا اور جوہری پھیلاؤ والے معاہدے کی اپنی رکنیت پر نظر ثانی کرے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا کہ مذکورہ ایجنسی کے بورڈ کی طرف سے کوئی سیاسی فیصلہ معاملے کو مزید الجھا سکتا ہے۔

اس سے پہلے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کو ایٹمی توانائی کرنے کا حق حاصل ہے جس سے اسے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ایران کے صدر نے کہا تھا کہ اسلام میں جوہری ہتھیار بنانے کی ممانعت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد