’ایران مخالف ووٹ امریکی دباؤ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا ہے کہ حکومت نےایران کے جوہری معاملات کو اقوام متحد کی سلامتی کونسل کے حوالے کرنے والی قرار داد کی حمایت امریکہ کے دباؤ میں کی ہے۔ حکومت کی اتحادی ان جماعتوں نے سرکار کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک بتایا ہے۔ لیکن حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ ’ آئی اے ای اے‘ یعنی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ایران کے تئیں جو قرارداد منظور کی ہے وہی بھارت کا بھی موقف ہے اور اس فیصلے کو امریکہ کے ساتھ حالیہ نیوکلیائی معاہدے کے پس منظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ تاہم حکومت کو باہرسےحمایت دے رہی بائیں بازو کی جماعتوں نےحکومت کی اس وضاحت کو پوری طرح مسترد کردیا ہے۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے دباؤ میں ایسا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایران کو نرمی سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے جسکا مطلب یہ ہوا کہ اپنے آپ کو امریکی دباؤ کے حوالے کردو۔ ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ ’حکومت نے آئی اے ای اے میں جو موقف اختیار کیا ہے سی پی آئی پولٹ بیورو اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ اس سے غیر وابستہ ممالک کی تنظیم میں بھارت کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ یو پی اے حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوام کو یہ ہرگز منظور نہیں ہوگا‘۔ کمیونسٹ پارٹی نےحکومت سے اپیل کی ہے کہ آئندہ نومبر میں جب اس معاملے پر دوبار ووٹنگ ہو تو بھارت کو چاہیے کہ وہ آزادانہ خارجہ پالیسی کے تحت ووٹ دے اور وہ بلیک میل کرنے والی تمام طاقتوں کی مخالفت کرے۔ ادھر وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ صحیح نہیں کہ اس معاملے میں بھارت نے کسی ایک گروپ کا ساتھ دیاہے۔ بیان میں اس بات کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ ہندوستان نے امریکہ کے دباؤ میں ایران کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان میں کہا گيا ہے ’بھارت اپنے فیصلے آزادانہ اور ملک کے مفاد کے لیے کرتا ہے‘۔ اسکا کہنا ہے ایران کے خلاف ووٹ اس لیے دیا گیا کیونکہ ایک عرصے سے بھارت فریقین کے درمیان جوہری تنازعے پر جاری بات چیت کی حمایت کرتا رہا ہے اور اسکا خیال ہے کہ ایران کو مزید وقت ملنا چاہیے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||