روس کی تجویز اب زیرغور نہیں:ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اپنے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سامنے رکھے جانے کے بعد کہا ہے کہ روس کی طرف سے پیش کیا جانے والا مصالحتی فارمولا اس کے زیر غور نہیں ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا کہ ’حالات بدل چکے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والے ممالک کا رد عمل دیکھیں گے۔ روس کی تجویز تھی کہ ایران اپنا جوہری پروگرام روس کی سرزمین پر منتقل کر دے تاکہ اس کی قریب سے مانیٹرنگ ہو سکے۔ بدھ کو اقوام متحدہ کے جوہری معاملات کے نگران ادارے آئی اے ای اے نے ایران کا معاملہ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کر دیا جسے پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔ ایران کہہ چکا ہے کہ اسے غیر عسکری ضروریات کے لیے جوہری توانائی کا حق حاصل ہے اور وہ اس سلسلے میں عالمی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ روس کی تجویز بہت سے لوگوں کے نزدیک ایران کے پاس اقوام متحدہ کے نگران ادارے کے ساتھ سمجھوتے کا آخری موقع تھا۔ گزشتہ ماہ ایران نے روس کے ساتھ مل کر یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ شروع کرنے پر اصولی طور پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن اس نے کہا تھا اس کے لیے مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ایران نے کہا تھا کہ روس کی تجویز ماننے کے بدلے میں اسے تحقیق کے لیے محدود پیمانے پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایران کی اس تجویز کو امریکہ اور روس نے مسترد کر دیا تھا۔ ایرن کی تجویز کے ایک ہفتے کے بعد آئی اے ای اے نے مسئلہ سلامتی کونسل کے سامنے رکھ دیا جو اس ہفتے اس پر غور کرے گی۔ | اسی بارے میں ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس ’ایران سلامتی کونسل کا امتحان‘ 10 March, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ سے تعاون ختم: ایران04 February, 2006 | صفحۂ اول ’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘20 February, 2006 | صفحۂ اول برادعی: میرا صبر جواب دے رہا ہے16 January, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||