خطے میں توازن ضروری ہے: قصوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے بھارت اور پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے دونوں ملکوں میں ایٹمی جنگ روکنے کے لیے روایتی ہتھیاروں کا توازن رکھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے آج لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاعی معاہدہ کی حتمی شکل دیکھ کر پاکستان اپنی تشویش کا اظہار کرے گا اور اس کی پیش بندی اور توڑ بھی کرے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی معاہدہ میں علاقائی توازن اور روایتی ہتھیاروں کے توازن کا خیال رکھا گیا ہے یا نہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور بھارت دو خود مختار ملک ہیں جو چاہیں معاہدہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کو امریکہ نے نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیا تو بھارت نے اس پر اعتراض کیا تھا لیکن ہم ان کے معاہدہ پر اعتراض نہیں کرتے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ایک نیا جنگی نظام علاقہ میں متعارف کرایا جارہا ہے اور ہمیں بھی اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقابلہ کرتے آئے ہیں اور مقابلہ کریں گے، ہمارا ماضی اس کا ثبوت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا پاکستان اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں لیکن ایک کم سے کم قابل اعتماد دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا اور ہر وہ کام کرے گا جو اس کے لیے ضروری ہو۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ سے ایف سولہ طیارے مل رہے ہیں اور اسے وہ سب کچھ مل رہا ہے جو اس کی ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چین سے بہت اچھے اور قریبی تعلقات ہیں اور امریکہ سے بھی اچھے تعلقات ہیں اور دنیا میں کم ایسے ملک ہیں جن کے بیک وقت چین اور امریکہ سے اچھے تعلقات ہوں۔ وزیر خارجہ نے ایران کے ایٹمی معاملہ پر کہا کہ پاکستان ایران کے ایٹمی معاملہ کا پر امن حل چاہتا ہے اور اس سلسلہ میں جی تھری ملکوں کی کوششوں کو سراہتا ہے اور ان کی تائید کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ این پی ٹی معاہدہ کے تحت اپنے حقوق و فرائض کا خیال رکھے اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرے۔ مسلمان ملک کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست دیے جانے کے مطالبے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا نظام مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ علاقائی بنیاد پر ہے اور اگر کسی کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر نشست دی گئی تو پھر دوسرے مذاہب کی بنیاد پر بھی ملکوں کو نشستیں دینا پڑیں گی۔ وزیر خارجہ نے کہا پاکستان چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی تنظیم نو میں ایشیا کو پانچ اور افریقہ کی چھ نشتیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب تک اس سلسلہ میں دنیا کے چالیس ملکوں کے سربراہوں اور وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ستمبر میں نیو یارک میں دنیا کے تقریبا تمام سربراہان مملکت اکٹھے ہورہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کی کوششوں کو وزن دے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||