کشمیر:بھارت پاک کتنے سنجیدہ ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ کشمیر سے بھارتی افواج کی جزوی واپسی برصغیر میں دیرپا امن کے امکانات کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ کیا یہ جنوری میں جنرل پرویز مشرف اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی جانب سے 57 سال پرانے تنازعے کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عہد کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی ڈرامائی کامیابی ہے؟ یا پھر یہ جنگ سے پریشان کشمیریوں کو کچھ راحت مہیا کرنے کے لیے حکومت بھارت کا ایک سوچا سمجھا قدم ہے جس میں پاکستان کے ساتھ بنیادی اختلافات کا حل تلاش کرنے کی کوئی کوشش شامل نہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک روایتی بیان جاری کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی پالیسی سازوں کی جانب سے ابھی تک بھارتی اقدام سے متعلق کوئی باقاعدہ رد عمل سامنے نہیں آیا جس میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ وہ اس اقدام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی مبصرین موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارتی پالیسی سازوں کے ذہن میں اس وقت چل کیا رہا ہے۔ لیکن جو چیز اس سارے عمل کو مشکل بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان کی طرف سے کشمیر سے فوج کی واپسی کے منصوبے کے خدوخال واضح نہیں ہیں۔
سولہ نومبر کو برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک بھارتی فوجی افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریباً 20 ہزار فوجی مرحلہ وار واپس بلائے جائیں گے۔ آپریشنل مجبوریوں کو بنیاد بنا کر اس معاملے میں سرکاری سطح پو کچھ نہیں بتایا گیا۔ آزاد ذرائع سے سامنے آنے والے جائزوں کے مطابق یہ تعداد وادی میں تعینات سکیورٹی افواج کا دسواں حصہ ہے جبکہ پاکستانی فوج اسے وادی میں تعینات ہندوستانی فوج کا بیسواں حصہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر بھارت صرف اتنی ہی افواج واپس بلاتا ہے تو پاکستان اسے محض ایک علامتی سفارتی اقدام سمجھےگا اور اس کی اہمیت معمول کے خیرمقدم سے زیادہ نہیں بنتی۔ ان تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے افواج کی واپسی کا سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہتا ہے تو پاکستان پر دباؤ پڑنے لگے گا کیونکہ اس طرح کشمیریوں کوخطے میں افواج کی کمی سے ہونے والے فوائد کا احساس ہو جائے گا۔ اور کشمیر میں بھارتی فوج کی کمی سے اس بارے میں بھی سوال اٹھنے لگیں گے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے سلسلے میں دونوں ملکوں کی سنجیدگی کشیمر کے مسئلے کے حل سے متعلق اب تک کا سب سے اہم تشنہ سوال ہے۔ اب تک دونوں فریق صرف سفارتی اقدامات کرنے پر اکتفا کرتے رہے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کے سلسلے میں مختلف سطع پر روابط اور مسائل کے حل کے لیے حقیقی کوششیں نہیں کی گئیں۔ اگرچہ صدر مشرف کی طرف سے گزشتہ ہفتے کشمیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کی تجویز اور کشمیر سے بھارتی فوج کی واپسی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بعض اس اقدام کو مشرف فارمولے کا جواب قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان اب تک وادی میں استصواب رائے کے سخت موقف پر کاربند رہا ہے لیکن صدر مشرف نے اپنی کشمیر تجاویز میں واضح طور پر ایک ایسے آپشن کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی جس سے کشمیر سے فوج کے انخلاء اور اس کی آئینی حیثیت میں برائے نام تبدیلی کی سبیل بنتی ہے۔ ہو سکتا ہے صدر مشرف کی تجاویز پاکستان کے ’اصولی‘ موقف سے کوئی بہت بڑا انحراف لگی ہوں لیکن جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ پاکستان کی حکومت اور فوج کی طرف سے پیش کیا جانے والا فارمولا نہیں بلکہ محض سفارتی میدان میں پوائنٹ سکور کرنے کی کی ایک کاوش تھی۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے سینیئر اہلکاروں نے مشرف تجاویز کے بعد ہونے والی ’آف دی ریکارڈ‘ بریفنگ میں کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ صدر مشرف نے اپنی تجاویز کا اعلان کرنے سے پہلے کابینہ کے سامنے یا کور کمانڈرز کے اجلاس میں ان پر بحث کی ہو۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ان اخباری رپورٹوں کی تردید کی کہ وہ بہت جلد صدر مشرف کی تجاویز کو باقاعدہ طور پر ہندوستان لے جائیں گے۔ صرف یہی نہیں پاکستان کی سخت گیر مذہبی تنظیمیں صدر مشرف کی گزشتہ ماہ کی تجاویز پر غیرمعمولی طور پر پُرسکون ہیں ۔ان کی خاموشی کی وجہ شاید ان کا یہ خیال ہے کہ حکومتیں یہ اقدام خلوص نیت سے نہیں کر رہیں یا وہ اس بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔
جہاں تک خلوص نیت کا معاملہ ہے وہ بےحداہم ہو جاتا ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان اس وقت کشمیر میں جو کچھ بھی کر رہے ہیں ان میں کہیں کوئی ایسا مقام نظر نہیں آتا جہاں دونوں میں کوئی مطابقت پیدا ہو۔ پاکستان کی کوشش یہ ہے کہ وہ مسئلے کے حل تک ایک بڑے فریق کی حیثیت کو برقرار رکھے جبکہ ہندوستان کی کوشش ہے کہ وہ کشمیریوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کرے۔ دونوں ملکوں کے درمیان حقیقی امن کے فروغ کے لیے ایسی مشترکہ نکات کو تلاش کرنا ہوگا جن پر کار بند ہو کر فریقین اپنے اختلاف کے باوجود قیام امن کے عمل کو آگے بڑھا سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||