کوئی شرط قبول نہیں: منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے میں کوئی نئی شرط قبول نہیں کی جائےگی۔ سرکار نے یقین دلایا ہے کہ اس معاہدے کو ہر ممکنہ حد تک شفاف اور جواب دہ بنایا جائےگا۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نےگزشتہ برس امریکہ کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہم ایسی کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کریں گے جو اٹھارہ جولائی کے مشترکہ بیان کے مطابق نہ ہو۔‘ کئی سیاسی جماعتیں امریکہ کے ساتھ نیوکلیر معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں اور وزیرِاعظم نے یہ بیان پارلیمنٹ میں وقفۂ سوال کے دوران ایک ایسے وقت دیا ہے جب امریکی کانگریس میں چند گھنٹے بعد ہی اس مسئلے پر ووٹ پڑنے والے ہیں۔ امریکی سینیٹ اس معاہدے کو پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ لیکن بعض حالیہ خبروں سے بھارت میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ کے لیئے امریکہ نے نئی شرائط عائد کردی ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو اس معاہدے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ اس سے بھارت پوری طرح امریکہ پر منحصر ہوجائے گا۔ ادھر پارلمینٹ میں پاکستان کے جوہری معاملے پر بھی ہنگامہ آرائي ہوئی ہے۔ بی جے پی سمیت کئی جماعتوں نے اس خبر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان اپنے جوہری پلانٹ میں ایک ایسا طاقت ور ری ایکٹر لگانے جارہا ہے جس سے ہر برس تقریباً پچاس نیوکلیر بم تیار کیئے جاسکتے ہیں۔ حکومت کی اتحادی سماج وادی پارٹی سمیت اپوزیشن نے جب اس معاملے پر جواب طلب کیا تو وزیرِ دفاع پرنب مکھرجی نے کہا کہ ہر چیز کا جواب اتنی جلدی نہیں دیا جا سکتا۔ | اسی بارے میں بھارت-امریکہ جوہری معاہدہ اور مشکلات21 January, 2006 | انڈیا ’جوہری معاہدہ اسلحہ کیلیے نہیں‘22 February, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے کیلیئے انڈین اپیل01 April, 2006 | انڈیا ’معاہدہ بھارت کے حق میں نہیں‘29 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||