BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 June, 2006, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’معاہدہ بھارت کے حق میں نہیں‘

بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی
ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سویلین مقاصد کے لیے امریکہ کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدے پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت میں اگر معاہدے کو منظور کیا گیا تو نیوکلائی شعبے میں بھارت کی آزادی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ حال میں امریکی کانگریس کی ایک بااثر کمیٹی نے بھارت اور امریکہ کے درمیان سویلین مقاصد کے جس معاہدے کو منظوری دی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت مستقبل میں کوئی ایٹمی دھماکہ کرتا ہے تو اس سے معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

پارٹی رہنما مرلی منوہر جوشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے ابھی تک یہ بات واضح نہیں کی ہے کہ وہ جوہری تجربے کے اپنے حق کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے یا نہیں۔ ’ہمیں جوہری تجربے کے اپنے حق کو کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہیے، کسی ایسی شرط کو بھی تسلیم نہ کیا جائے جس سے ہمارے جوہری نظام کی آزادی خطرے میں ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ اس بارے میں جو اقدامات کیے جارہے ہیں اس سے ملک کا فائدہ ہوگا یا پورے جوہری نظام کو گروی رکھا جارہا ہے۔‘

 ہمیں جوہری تجربے کے اپنے حق کو کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہیے، کسی ایسی شرط کو بھی تسلیم نہ کیا جائے جس سے ہمارے جوہری نظام کی آزادی خطرے میں ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ اس بارے میں جو اقدامات کیے جارہے ہیں اس سے ملک کا فائدہ ہوگا یا پورے جوہری نظام کو گروی رکھا جارہا ہے۔
پارٹی رہنما مرلی منوہر جوشی
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ موجودہ صورت میں منظورہوجائے تونیوکلیائی معاملات میں بھات امریکہ کا پوری طرح محتاج ہوجائے گا۔ ’امید تھی کہ ہمیں ایک نیوکلیئر ملک تسلیم کرلیا جائیگا لیکن اب ہمیں سی ٹی بی ٹی اور این پی ٹی کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس سے ہمارا معیار اور گر جائےگا۔‘

مسٹر جوشی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی منظوری کے لیے بھارت پر جو شرائط عائد کی جارہی ہیں اس سے ملک کا جوہری تحقیقی نظام متاثر ہوگا اور بھارت دوسرے آزاد ممالک سے کافی پیچھے ہوجائے گا۔ ’ملک کے سائنس دان حیرت میں ہیں کہ آخرتحقیقی نظام آزادانہ طور پر کیسے آگے بڑھے گا۔ پابندیوں کے سبب ہمارا تکنیکی معیارگرجائے گا۔ پاکستان پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوگی اور وہ ہم سے آگے نکل سکتا ہے۔‘

مرلی منوہر جوشی کا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ منظور ہوجائے تو چھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے بھارت کو امریکہ سے کئی ری ایکٹرز خریدنے پڑیں گے جس کی قیمت پچاس سے اسّی ارب ڈالر ہے۔

ان کے مطابق اس عمل میں بیس برس کا وقت لگے گا اور اس پورے عمل سے ملک کی مجموعی توانائی کی ضرورت کی صرف چھ فیصد بجلی پیدا ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس پورے معاملے پر ازسر نو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ سب ملک کے مفاد ہے۔

نیوکلیئر پروگرامایٹمی تنہائی کاخاتمہ
امریکہ نےانڈیا کوجوہری طاقت مان لیا
بھارت کا جوہری پروگرام بھارتی ایٹمی پروگرام
فوجی مقاصد کیلیے دو ری ایکٹر
صدر بشدکن ڈائری
بش کادورہ: ’پانچ اندھوں کا ہاتھی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد