جوہری معاہدہ پینل سے منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس کی ایک بااثر کمیٹی نے بھارت امریکہ سویلین جوہری توانائی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے پانچ کے مقابلے میں سینتیس ووٹوں کی اکثریت سے اس کی منظوری دی۔ امریکی سینیٹ میں اس منصوبے کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم اس منظوری سے اس کے کانگریس سے منظور ہو جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی دے گا اور اس کے بدلے بھارت معائنہ کاروں کو سویلین ری ایکٹرز تک رسائی دے گا۔ امریکہ اور بھارت دونوں کے لیئے یہ معاہدہ اہمیت کا حامل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ ہوگیا تو یہ جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کے لیئے ایک جھٹکا ثابت ہوگا۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف بھارت بہتر طور پر جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو جائے گا بلکہ یہ دیگر ممالک مثلاً ایران وغیرہ کے لیئے بھی ایک منفی پیغام ہوگا جس کے جوہری پروگرام کی امریکہ شدید مخالفت کررہا ہے۔ ریپبلیکن پارٹی کے جم لیچ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک انتظامی عمل سے این پی ٹی کو گھاؤ لگا دیا گیا ہے۔ جو بھی اسے ایک خوشی کا موقع سمجھ رہا ہے وہ بہت سنگین غلطی کر رہا ہے‘۔
امریکی صدر بش نے یہ جوہری معاہدہ مارچ میں انڈیا کے دورے کے دوران کیا تھا۔ 1974 میں بھارت کے جوہری تجربے کے بعد امریکی پالیسی کے تحت امریکہ نے بھارت کے ساتھ جوہری تعاون ختم کردیا تھا۔ اب یہ نیا معاہدہ امریکہ کی اپنی پالیسی کے بھی خلاف ہوگا۔ تاہم واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کے کئی اراکین اس معاہدے کے حق میں ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان میں اس معاہدے کے حامی ٹام لینٹوس نے کہا ہے کہ ’یہ ایک تاریخ ساز دن ہے اور اس سے بھارت کی دنیا کے بارے میں پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے‘۔ بھارت کے دانشوروں اور کاروباری افراد نے اس کی حمایت کی ہے۔ امریکہ میں بھارت کی بزنس کونسل کے سربراہ ران سومرز نے کہا ہے کہ ’یہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے ایک تارریخ ساز دن ہے اور شاید ماضی قریب میں بہترین وقت ہے‘۔ ان کا گروپ کانگریس کے اراکین میں اس معاہدے کی حمایت کے لیئے لابنگ کرتا رہا ہے۔ اب اس بل کو سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہے اور اس سے منظور ہونے کی صورت میں اسے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں حیدرآباد دکن میں بش مخالف لہر 01 March, 2006 | انڈیا بش کے دورے کے خلاف مظاہرے02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا ’بش جیسے جنگی مجرم کا استقبال‘01 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||