BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدہ پینل سے منظور
 بھارت میں بھابھا ری ایکٹر
امریکہ اور بھارت دونوں کے لیئے یہ معاہدہ اہمیت کا حامل ہے
امریکی کانگریس کی ایک بااثر کمیٹی نے بھارت امریکہ سویلین جوہری توانائی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے پانچ کے مقابلے میں سینتیس ووٹوں کی اکثریت سے اس کی منظوری دی۔ امریکی سینیٹ میں اس منصوبے کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم اس منظوری سے اس کے کانگریس سے منظور ہو جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت امریکہ بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی دے گا اور اس کے بدلے بھارت معائنہ کاروں کو سویلین ری ایکٹرز تک رسائی دے گا۔

امریکہ اور بھارت دونوں کے لیئے یہ معاہدہ اہمیت کا حامل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ ہوگیا تو یہ جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کے لیئے ایک جھٹکا ثابت ہوگا۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف بھارت بہتر طور پر جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو جائے گا بلکہ یہ دیگر ممالک مثلاً ایران وغیرہ کے لیئے بھی ایک منفی پیغام ہوگا جس کے جوہری پروگرام کی امریکہ شدید مخالفت کررہا ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے جم لیچ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک انتظامی عمل سے این پی ٹی کو گھاؤ لگا دیا گیا ہے۔ جو بھی اسے ایک خوشی کا موقع سمجھ رہا ہے وہ بہت سنگین غلطی کر رہا ہے‘۔

صدر بش اور وزیر اعظم منموہن
اس سال مارچ میں صدر بش کے دورہ بھارت کے دوران اس معاہدے کا اعلان کیا گیا

امریکی صدر بش نے یہ جوہری معاہدہ مارچ میں انڈیا کے دورے کے دوران کیا تھا۔
اس معاہدے کے بعد انڈیا کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔

1974 میں بھارت کے جوہری تجربے کے بعد امریکی پالیسی کے تحت امریکہ نے بھارت کے ساتھ جوہری تعاون ختم کردیا تھا۔ اب یہ نیا معاہدہ امریکہ کی اپنی پالیسی کے بھی خلاف ہوگا۔

تاہم واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کے کئی اراکین اس معاہدے کے حق میں ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان میں اس معاہدے کے حامی ٹام لینٹوس نے کہا ہے کہ ’یہ ایک تاریخ ساز دن ہے اور اس سے بھارت کی دنیا کے بارے میں پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے‘۔

بھارت کے دانشوروں اور کاروباری افراد نے اس کی حمایت کی ہے۔ امریکہ میں بھارت کی بزنس کونسل کے سربراہ ران سومرز نے کہا ہے کہ ’یہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے ایک تارریخ ساز دن ہے اور شاید ماضی قریب میں بہترین وقت ہے‘۔ ان کا گروپ کانگریس کے اراکین میں اس معاہدے کی حمایت کے لیئے لابنگ کرتا رہا ہے۔

اب اس بل کو سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہے اور اس سے منظور ہونے کی صورت میں اسے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد