انڈیا،امریکہ جوہری معاہدے پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس نے منگل کو انڈیا کے ساتھ سویلین جوہری ٹیکنالوجی کی شراکت سے متعلق متنازعہ منصوبے پر غور شروع کردیا ہے۔ امریکی سینیٹ میں اس منصوبے کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ کانگریس رائے دہی سے یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا ایک ایسے ملک کے ساتھ اس نوعیت کا جوہری تعلق درست ہے جو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔ امریکہ اور بھارت دونوں کے لیئے یہ معاہدہ اہمیت کا حامل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ ہوگیا تو یہ جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کے لیئے ایک جھٹکا ثابت ہوگا۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف بھارت بہتر طور پر جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو جائے گا بلکہ یہ دیگر ممالک مثلاً ایران وغیرہ کے لیئے بھی ایک منفی پیغام ہوگا جس کے جوہری پروگرام کی امریکہ شدید مخالفت کررہا ہے۔ امریکی صدر بش نے یہ جوہری معاہدہ مارچ میں انڈیا کے دورے کے دوران کیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد انڈیا کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ 1974 میں بھارت کے جوہری تجربے کے بعد امریکی پالیسی کے تحت امریکہ نے بھارت کے ساتھ جوہری تعاون ختم کردیا تھا۔ اب یہ نیا معاہدہ امریکہ کی اپنی پالیسی کے بھی خلاف ہوگا۔ معاہدے کے تحت انڈیا کو امریکہ کی شہری جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی اور وہ اپنی چند تنصیبات معائنے کے لیئے کھول دے گا۔ لیکن جوہری ہتھیار تیار کرنے والی تنصیبات کے معائنے پر انڈیا راضی نہیں ہے۔ امریکی کانگریس کے کچھ اراکین نے اس معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان اراکین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں حیدرآباد دکن میں بش مخالف لہر 01 March, 2006 | انڈیا بش کے دورے کے خلاف مظاہرے02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا ’بش جیسے جنگی مجرم کا استقبال‘01 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||