ہند،روس بڑھتا ہواجوہری اشتراک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور روس نے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں ممالک غیر فوجی جوہری توانائی کے شعبے میں اشتراک کو مزید وسعت دینگے۔ روس کے وزیراعظم میخائیل فریدکوف نے ہندوستانی رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد کہا کہ روس اور ہندوستان کے درمیان جس سطح کے تعلقات ہونے چاہیں وہ ابھی تک قائم نہیں کیے جا سکے ہیں۔ ’ہم نے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ سیاسی سطح پر اتنے اچھے تعلقات کے باؤجود تجارت اور اقتصادی تعلقات میں اس کی مناسبت سے اضافہ کیوں نہیں ہوا ہے۔‘ روس اور ہندوستان تیل، گیس اور ’سویلن نیو کلیئر توانائی‘ کے شعبے میں طویل المدت اور بڑے پیمانے پر تعاون کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔ روس کی مدد سے ہندوستان میں اس وقت دو جوہری ری ایکٹر تعمیر کیے جارہے ہیں۔ ان ری ایکٹروں سے دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ امریکہ نے تارہ پور پلانٹ کے لیے ایندھن فراہم کرنے کی روس کی پیش کش پر اعتراض کیا ہے امریکہ کا کہنا ہے جوہری معاہدے کے تحت ہندوستان کو اپنی بعض ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ روس کی یہ پیش امریکی کانگریس میں ہند، امریکہ معاہدے کی منظوری کے لیے مشکل پیدا کرسکتی ہے جسے پہلے ہی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی ایٹمی پلانٹ کو روسی ایندھن15 March, 2006 | انڈیا ایران تنازعے کا حل بات چیت: منموہن06 March, 2006 | انڈیا ایران، روس۔انڈیا بات چیت05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||