ہندوستان اور چین : دشمنی سے دوستی کا سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ زمانہ کی ستم ظریفی ہے کہ چین کے صدر ہو جنتاؤ عین اس روز ہندوستان کے دورہ پر آئے ہیں جب کہ چوالیس سال قبل چین نے ہندوستان کی شمال مشرقی سرحد پر جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کیا تھا اور نہایت ہتک آمیز انداز سے یکطرفہ جنگ بندی نافذ کی تھی- ہندوستان کے شمال مشرقی علاقہ نیفا میں جو اب ارونا چل پردیش کہلاتا ہے اور وہاں سے ایک ہزار کلومیٹر دور لداخ میں اقصائے چن کے علاقہ میں سرحدی جنگ بیس اکتوبر سن انیس سو باسٹھ کو بھڑکی تھی اور تیس روز کے اندر اندر چینی فوجوں نے ہندوستانی فوجوں کو ارونا چل پردیش کے اس پورے علاقہ سے جس پر چین کا دعویٰ ہے کھدیڑ دیا اور دریائے برہم پترا کے مشرقی کنارے تک پہنچ گئیں-
یہ وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کے لیے زبردست سیاسی ہزیمت تھی جو ان کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ اس ہزیمت کا اثر زائیل کرنے کے لیے نہرو نے سب سے پہلے تو فوج کے سربراہ جنرل کول اور اپنے قریبی ساتھی وزیر دفاع کرشنا مینن کو بھینٹ چڑھادیا۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر نہرو راہی عدم ہوگئے۔ ہندوستان کی آزادی کے صرف چودہ سال بعد اس کے اپنے ہمسایہ چین کے ساتھ تعلقات میں ایسی اتھل پتھل ہوئی کہ پورے برصغیر میں حالات یکسر بدل گئے۔ کہاں سن پچاس کی دہائی ہندوستان اور چین کی اتنی قریبی دوستی سے عبارت تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان فضا ’ہندی چینی بھائی بھائی‘ کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ ہندوستان اور چین بین الاقوامی تعلقات کے اس نظریہ کے مشترکہ بانی تھے جو پنج شیل کہلاتا ہے اور جس کا بنیادی اصول بقائے باہمی اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت ہے۔
ہندوستان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے کیونکہ خود ہندوستان نے پنچ شیل کے معاہدہ کے تحت یہ بات تسلیم کر لی تھی کہ تبت پر چین کی حاکمیت اعلیٰ ہے۔ جواہر لعل نہرو تو اس سے پہلے ہی تبت کو چین کا حِصّہ تسلیم کر چکے تھے۔ ہندوستان تبت پر چین کے دعویٰ کو تو چیلنج نہ کر سکا البتہ سن انیس سو انسٹھ میں ہندوستان نے تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو چین سے فرار ہوکر ہندوستان آنے کی شہہ دی اور ان کے ساتھ ان کے کئی ہزار پیرو کاروں نے ہندوستان میں پناہ حاصل کر لی۔ چین نے اسے ہندوستان کی چین دشمنی سے تعبیر کیا اور چین کے لیے یہ زخم ابھی تک تازہ ہے۔ ادھر سن انیس سو چھپن میں لداخ میں اقصائے چن میں چین کی طرف سے فوجی اور اقتصادی لحاظ سے نہایت اہم شہراہ کی تعمیر پر ہندوستان نے سخت احتجاج کیا اور اپنی فوجیں سرحد پر تعینات کرنی شروع کر دیں۔ اس دوران جواہر لعل نہرو اور چو این لائی دونوں نے سرحدی تنازعات کے تصفیہ کے لیے متعدد کوششیں کیں اور سن انیس سو ساٹھ میں چو این لائی دلی بھی آئے اور تجویز پیش کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان پوری سرحد کو غیر فوجی قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ چین نیفا( اروناچل پردیش) میں ہندوستان کا دعویٰ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس بنیاد پر تصفیہ نہ ہوسکا کیونکہ ہندوستان نے لداخ میں چین کا حق تسلیم کرنے سے انکار کردیا-
اس وقت در اصل وزیر دفاع کرشنا مینن اور وزیر خزانہ مرار جی ڈیسائی کے درمیان شدید معرکہ آرائی جاری تھی اورانتہائی دائیں بازو نے نہرو کا اس بری طرح سے محاصرہ کررکھا تھا کہ وہ بے دست و پا ہوگئے تھے اور اپنے طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نہرو چین کے ساتھ تصادم کی دلدل میں تیزی سے دھنستے جارہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جب نیفا میں ہندوستانی اور چینی فوجوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں تو نہرو نے ان کے سنگین نتائج کی طرف توجہ نہیں دی اور نہ ان کے وزیر دفاع کرشنا مینن نے جنگ کے خطرات کے پیش نظر کوئی فوجی تیاری کی۔ ستمبر سن باسٹھ میں سرحد پر بگڑتی ہوئی صورت حال کے بارے میں چین نے ایک نہایت سخت مراسلہ بھیجا تھا جو بیشتر سفارت کاروں کے نزدیک ہندوستان کو الٹی میٹم تھا لیکن نہرو نے سری لنکا کے دورہ پر روانہ ہوتے ہوئے اعلان کیا کہ ہندوستانی فوج کو حکم دے دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کے علاقہ سے چینی فوجوں کو باہر دھکیل دیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بیس اکتوبر کو چینی فوجوں نے ایک طرف نیفا میں اور دوسری طرف لداخ میں چپ چاپ وادی میں حملہ کر دیا۔ چین نے متنازعہ علاقوں پر قبضہ کے بعد چوبیس اکتوبر کو مذاکرات کی دعوت دی جسے ہندوستان نے ٹھکرا دیا جس کے بعد چینی فوجوں نے بڑے پیمانہ پر نیفا میں پیش قدمی کی اور اٹھارہ نومبر کو دریائے برہم پترا کے مشرقی کنارے پر پہنچ گئیں اور اکیس نومبر کو یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان چین کی فتح اور ہندوستان کی شکست کا اعلان تھا۔ جواہر لعل نہرو جنہوں نے چین کے ساتھ دوستی کا خواب دیکھا تھا اس شکست کی تاب نہ لاسکے اور ایک سال کے اندر انتقال کر گئے۔ ہندوستان میں پہلے لال بہادر شاستری اور پھر اندرا گاندھی کی نئی قیادت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ایک عرصہ تک ہندوستان اور چین کے درمیان دشمنی کی فضا طاری رہی اور سرحدی تنازعات کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی- انیس سو اٹھاسی میں راجیو گاندھی نے اس فضا کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھایا اور چین کا دورہ کیا۔ راجیو گاندھی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان اگر چین سے سرحدی تنازعات میں الجھا رہا تو وہ اقتصادی میدان میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا چنانچہ یہ طے کیا گیا کہ سرحدی تنازعات بالائے طاق رکھ کر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات استوار کیئے جائیں اور زور اقتصادی روابط اور باہمی سرمایہ کاری پر دیا جائے۔
چین کے صدر ہو جنتاؤ کا دلی کا یہ دورہ اسی سفر کا تسلسل ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ صدر ہو جنتاؤ ایسے وقت دلی آئے ہیں جب کہ چین عالمی افق پر تیزی سے چھا رہا ہے۔ امریکہ سپر طاقت بھلے سہی لیکن وہ عراق اور افغانستان میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ اس کے مقابلہ میں چین کے صدر نے پچھلے دنوں لاطینی امریکہ کا کامیاب دورہ کیا اور بیجنگ میں حال ہی میں انہوں نے افریقہ کے ملکوں کے سربراہوں کو دعوت دی تھی جس میں افریقہ کے ساتھ چین کے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور افریقہ میں بڑے پیمانہ پر چین کی سرمایہ کاری کے بارے میں اہم فیصلے کیئے گئے۔ اب صدر ہو جنتاؤ کے دِلّی کے دورہ میں ہندوستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کو جو اب بیس ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی ہے مزید فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو اور وسعت دینے کے بارے میں فیصلوں کی توقع ہے۔ بظاہر تو ہندوستان اور چین کے درمیان دوستی کی پینگیں بڑھ رہی ہیں لیکن اب بھی سرحدی تنازعات کی بدولت شکوک و شبہات کی فصیلیں کھڑی ہیں اور ایک دوسرے کی فوجی قوت اور عزائم کے بارے میں باہمی تشویش اور خدشات ہیں- یہ امر اہم ہے کہ حال میں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جوہری تعاون کا جو معاہدہ ہوا ہے اور جس کی امریکی سینٹ نے توثیق کر دی ہے اس پر چین معنی خیز طور پر خاموش ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہندوستان اور چین کے تعلقات کا اثر بلا شبہہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر تو پڑے گااور یقیناً چین اور ہندوستان کے مستقبل کے تعلقات کا برصغیر پر گہرا اثر پڑے گا۔ | اسی بارے میں چینی صدر دلی میں20 November, 2006 | انڈیا سمگلشدہ کھالیں چین میں مقبول 27 September, 2006 | انڈیا چین اور انڈیا کی ترقی: مقابلہ آسان نہیں23 July, 2006 | انڈیا بھارت میں اب چینی طرز کے تجارتی زون10 May, 2005 | انڈیا بھارت چین سرحدی تنازع حل ہونے کا امکان11 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||