BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 November, 2006, 01:03 GMT 06:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوستان اور چین : دشمنی سے دوستی کا سفر

ہو جنتاؤ
چین اور ہندوستان کے مستقبل کے تعلقات کا برصغیر پر گہرا اثر پڑے گا
یہ زمانہ کی ستم ظریفی ہے کہ چین کے صدر ہو جنتاؤ عین اس روز ہندوستان کے دورہ پر آئے ہیں جب کہ چوالیس سال قبل چین نے ہندوستان کی شمال مشرقی سرحد پر جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کیا تھا اور نہایت ہتک آمیز انداز سے یکطرفہ جنگ بندی نافذ کی تھی-

ہندوستان کے شمال مشرقی علاقہ نیفا میں جو اب ارونا چل پردیش کہلاتا ہے اور وہاں سے ایک ہزار کلومیٹر دور لداخ میں اقصائے چن کے علاقہ میں سرحدی جنگ بیس اکتوبر سن انیس سو باسٹھ کو بھڑکی تھی اور تیس روز کے اندر اندر چینی فوجوں نے ہندوستانی فوجوں کو ارونا چل پردیش کے اس پورے علاقہ سے جس پر چین کا دعویٰ ہے کھدیڑ دیا اور دریائے برہم پترا کے مشرقی کنارے تک پہنچ گئیں-

برِّصغیر بدل گیا
 ہندوستان کی آزادی کے صرف چودہ سال بعد اس کے اپنے ہمسایہ چین کے ساتھ تعلقات میں ایسی اتھل پتھل ہوئی کہ پورے برصغیر میں حالات یکسر بدل گئے
پورے متنازعہ علاقہ پر قبضہ کے بعد اکیس نومبر سن انیس سو باسٹھ کو چین نے یک طرفہ طور پر جنگ بند کرنے کا اعلان کیا اور اسی کے ساتھ ہندوستان کی فوجوں کو خبردار کیا کہ وہ اس علاقہ میں واپس نہ آئیں ورنہ سرحدی جنگ دونوں ملکوں کے درمیان بھر پور جنگ کی صورت اختیار کر لے گی۔

یہ وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کے لیے زبردست سیاسی ہزیمت تھی جو ان کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ اس ہزیمت کا اثر زائیل کرنے کے لیے نہرو نے سب سے پہلے تو فوج کے سربراہ جنرل کول اور اپنے قریبی ساتھی وزیر دفاع کرشنا مینن کو بھینٹ چڑھادیا۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر نہرو راہی عدم ہوگئے۔

ہندوستان کی آزادی کے صرف چودہ سال بعد اس کے اپنے ہمسایہ چین کے ساتھ تعلقات میں ایسی اتھل پتھل ہوئی کہ پورے برصغیر میں حالات یکسر بدل گئے۔

کہاں سن پچاس کی دہائی ہندوستان اور چین کی اتنی قریبی دوستی سے عبارت تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان فضا ’ہندی چینی بھائی بھائی‘ کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ ہندوستان اور چین بین الاقوامی تعلقات کے اس نظریہ کے مشترکہ بانی تھے جو پنج شیل کہلاتا ہے اور جس کا بنیادی اصول بقائے باہمی اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت ہے۔

باہمی خدشات
 بظاہر تو ہندوستان اور چین کے درمیان دوستی کی پینگیں بڑھ رہی ہیں لیکن اب بھی سرحدی تنازعات کی بدولت شکوک و شبہات کی فصیلیں کھڑی ہیں اور ایک دوسرے کی فوجی قوت اور عزائم کے بارے میں باہمی تشویش اور خدشات ہیں-
ہندوستان اور چین کی اس مِثالی دوستی پر اختلافات اور کشیدگی کی پرچھائیاں سن انیس سو چھپن سے پڑنی شروع ہوگئی تھیں جب چین نے تبت کو اپنے وفاقی ڈھانچہ میں ضم کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔

ہندوستان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے کیونکہ خود ہندوستان نے پنچ شیل کے معاہدہ کے تحت یہ بات تسلیم کر لی تھی کہ تبت پر چین کی حاکمیت اعلیٰ ہے۔ جواہر لعل نہرو تو اس سے پہلے ہی تبت کو چین کا حِصّہ تسلیم کر چکے تھے۔

ہندوستان تبت پر چین کے دعویٰ کو تو چیلنج نہ کر سکا البتہ سن انیس سو انسٹھ میں ہندوستان نے تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو چین سے فرار ہوکر ہندوستان آنے کی شہہ دی اور ان کے ساتھ ان کے کئی ہزار پیرو کاروں نے ہندوستان میں پناہ حاصل کر لی۔

چین نے اسے ہندوستان کی چین دشمنی سے تعبیر کیا اور چین کے لیے یہ زخم ابھی تک تازہ ہے۔

ادھر سن انیس سو چھپن میں لداخ میں اقصائے چن میں چین کی طرف سے فوجی اور اقتصادی لحاظ سے نہایت اہم شہراہ کی تعمیر پر ہندوستان نے سخت احتجاج کیا اور اپنی فوجیں سرحد پر تعینات کرنی شروع کر دیں۔

اس دوران جواہر لعل نہرو اور چو این لائی دونوں نے سرحدی تنازعات کے تصفیہ کے لیے متعدد کوششیں کیں اور سن انیس سو ساٹھ میں چو این لائی دلی بھی آئے اور تجویز پیش کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان پوری سرحد کو غیر فوجی قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ چین نیفا( اروناچل پردیش) میں ہندوستان کا دعویٰ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس بنیاد پر تصفیہ نہ ہوسکا کیونکہ ہندوستان نے لداخ میں چین کا حق تسلیم کرنے سے انکار کردیا-

نہرو دھنستے چلے گئے
 وزیر دفاع کرشنا مینن اور وزیر خزانہ مرار جی ڈیسائی کے درمیان شدید معرکہ آرائی جاری تھی اورانتہائی دائیں بازو نے نہرو کا اس بری طرح سے محاصرہ کررکھا تھا کہ وہ بے دست و پا ہوگئے تھے اور اپنے طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نہرو چین کے ساتھ تصادم کی دلدل میں تیزی سے دھنستے جارہے ہیں
میں اس زمانہ میں دِلّی میں تعینات تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چو این لائی نے نہرو اور کرشنا مینن سے کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد رات ایک بجے راشٹر پتی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں چو این لائی نہایت مایوس نظر آتے تھے۔

اس وقت در اصل وزیر دفاع کرشنا مینن اور وزیر خزانہ مرار جی ڈیسائی کے درمیان شدید معرکہ آرائی جاری تھی اورانتہائی دائیں بازو نے نہرو کا اس بری طرح سے محاصرہ کررکھا تھا کہ وہ بے دست و پا ہوگئے تھے اور اپنے طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نہرو چین کے ساتھ تصادم کی دلدل میں تیزی سے دھنستے جارہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جب نیفا میں ہندوستانی اور چینی فوجوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں تو نہرو نے ان کے سنگین نتائج کی طرف توجہ نہیں دی اور نہ ان کے وزیر دفاع کرشنا مینن نے جنگ کے خطرات کے پیش نظر کوئی فوجی تیاری کی۔

ستمبر سن باسٹھ میں سرحد پر بگڑتی ہوئی صورت حال کے بارے میں چین نے ایک نہایت سخت مراسلہ بھیجا تھا جو بیشتر سفارت کاروں کے نزدیک ہندوستان کو الٹی میٹم تھا لیکن نہرو نے سری لنکا کے دورہ پر روانہ ہوتے ہوئے اعلان کیا کہ ہندوستانی فوج کو حکم دے دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کے علاقہ سے چینی فوجوں کو باہر دھکیل دیں۔

نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بیس اکتوبر کو چینی فوجوں نے ایک طرف نیفا میں اور دوسری طرف لداخ میں چپ چاپ وادی میں حملہ کر دیا۔

چین نے متنازعہ علاقوں پر قبضہ کے بعد چوبیس اکتوبر کو مذاکرات کی دعوت دی جسے ہندوستان نے ٹھکرا دیا جس کے بعد چینی فوجوں نے بڑے پیمانہ پر نیفا میں پیش قدمی کی اور اٹھارہ نومبر کو دریائے برہم پترا کے مشرقی کنارے پر پہنچ گئیں اور اکیس نومبر کو یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان چین کی فتح اور ہندوستان کی شکست کا اعلان تھا۔

جواہر لعل نہرو جنہوں نے چین کے ساتھ دوستی کا خواب دیکھا تھا اس شکست کی تاب نہ لاسکے اور ایک سال کے اندر انتقال کر گئے۔

ہندوستان میں پہلے لال بہادر شاستری اور پھر اندرا گاندھی کی نئی قیادت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ایک عرصہ تک ہندوستان اور چین کے درمیان دشمنی کی فضا طاری رہی اور سرحدی تنازعات کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی-

انیس سو اٹھاسی میں راجیو گاندھی نے اس فضا کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھایا اور چین کا دورہ کیا۔ راجیو گاندھی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان اگر چین سے سرحدی تنازعات میں الجھا رہا تو وہ اقتصادی میدان میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا چنانچہ یہ طے کیا گیا کہ سرحدی تنازعات بالائے طاق رکھ کر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات استوار کیئے جائیں اور زور اقتصادی روابط اور باہمی سرمایہ کاری پر دیا جائے۔

دشمنی سے پھر دوستی کا سفر
 انیس سو اٹھاسی میں راجیو گاندھی نے اس فضا کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھایا اور چین کا دورہ کیا۔ راجیو گاندھی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان اگر چین سے سرحدی تنازعات میں الجھا رہا تو وہ اقتصادی میدان میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا چنانچہ یہ طے کیا گیا کہ سرحدی تنازعات بالائے طاق رکھ کر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات استوار کیئے جائیں اور زور اقتصادی روابط اور باہمی سرمایہ کاری پر دیا جائے
یہ سفر تھا ہندوستان کا چین کے ساتھ دشمنی کے بعد دوبارہ دوستی کی طرف۔ نراسیما راؤ، اٹل بہاری واجپئی اور من موہن سنگھ سب نے اس سفر کو تیزی سے آگے بڑھایا۔

چین کے صدر ہو جنتاؤ کا دلی کا یہ دورہ اسی سفر کا تسلسل ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ صدر ہو جنتاؤ ایسے وقت دلی آئے ہیں جب کہ چین عالمی افق پر تیزی سے چھا رہا ہے۔ امریکہ سپر طاقت بھلے سہی لیکن وہ عراق اور افغانستان میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ اس کے مقابلہ میں چین کے صدر نے پچھلے دنوں لاطینی امریکہ کا کامیاب دورہ کیا اور بیجنگ میں حال ہی میں انہوں نے افریقہ کے ملکوں کے سربراہوں کو دعوت دی تھی جس میں افریقہ کے ساتھ چین کے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور افریقہ میں بڑے پیمانہ پر چین کی سرمایہ کاری کے بارے میں اہم فیصلے کیئے گئے۔

اب صدر ہو جنتاؤ کے دِلّی کے دورہ میں ہندوستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کو جو اب بیس ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی ہے مزید فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو اور وسعت دینے کے بارے میں فیصلوں کی توقع ہے۔

بظاہر تو ہندوستان اور چین کے درمیان دوستی کی پینگیں بڑھ رہی ہیں لیکن اب بھی سرحدی تنازعات کی بدولت شکوک و شبہات کی فصیلیں کھڑی ہیں اور ایک دوسرے کی فوجی قوت اور عزائم کے بارے میں باہمی تشویش اور خدشات ہیں-

یہ امر اہم ہے کہ حال میں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جوہری تعاون کا جو معاہدہ ہوا ہے اور جس کی امریکی سینٹ نے توثیق کر دی ہے اس پر چین معنی خیز طور پر خاموش ہے۔

امریکہ کے ساتھ ہندوستان اور چین کے تعلقات کا اثر بلا شبہہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر تو پڑے گااور یقیناً چین اور ہندوستان کے مستقبل کے تعلقات کا برصغیر پر گہرا اثر پڑے گا۔

اسی بارے میں
چینی صدر دلی میں
20 November, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد