سمگلشدہ کھالیں چین میں مقبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں جانوروں کے تحفظ کے لیۓ کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چین شیر کی کھالوں کی سمگلنگ کا نیا مرکز بن گیا ہے ۔ ان تنظیموں نے بتایا ہے کہ ہندوستان سے یہ سمگلنگ ہند نیپال سرحد کے راستے سے ہو رہی ہے۔ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیۓ کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں ’وائلڈ لائف پروٹیکشن سوسائٹی آف انڈیا‘ اور ’انوارومینٹل انویسٹیگیشن ایجینسی‘ کے مطابق تبت اور چین کے شہروں میں کھلے عام ہندوستانی شیر کی کھالوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال شیر کی کھالوں کی سمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ وائلڈ لائف سوسائٹی آف انڈیا کی سربراہ بیلنڈہ رائٹ کا کہنا تھا کہ ہندوستان سے شیر کی کھالوں کی سمگلنگ کا مرکز پہلے تبت ہوا کرتا تھا لیکن اب زیادہ تر کھالیں چین جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کی تمام کوششوں کے باوجود ہند نیپال سرحد سے شیر کی کھالوں کی سمگلنگ جاری ہے۔ اور تبت کے بعد اب چین کے بازاروں میں ہندوستانی شیروں کی کھالوں سے بنا سامان کھلے عام بک رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چین کے بڑے تاجر اور سیاح اپنے گھروں کی سجاوٹ کے لیۓ شیر کی کھال سے بنا سامان خرید رہے ہیں‘۔
شیر کی کھالوں کے بازار میں ہندوستانی شیر کی کھال کی شناخت کس طرح کی جاتی ہے؟ جانوروں کے تحفظ کے لیۓ کام کرنے والے نتن دیسائی بتاتے ہیں کہ ’ہندوستان کے شکاری ایک خاص طریقے سے شیر کا شکار کرتے ہیں جس سے شیر کے جسم پر نشان پڑ جاتے ہیں۔ اور وہ اس کی لاش کو ایک مخصوص طریقے سے سمیٹتے ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کھال ہندوستان سے آئی ہے‘۔ غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر سے اب تک 27 شیر اور 199 چیتوں کی کھالیں نیپال اور ہندوستان کے مختلف مقامات سے برآمد کی جا چکی ہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق شیر کی کھالوں کی سمگلنگ گجروں کی مدد سے ہوتی ہے کیونکہ گجروں کو شیروں کی عادتوں کا پتہ ہوتا ہے اور وہ جال بچھا کر آسانی سے شیروں کو پکڑ لیتے ہیں۔ ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش میں شیروں کی سب سے زیادہ آبادی ہے۔ یہاں کم از کم 25 محفوظ جنگلات ہیں جن میں تقریباً 712 شیر رہتے ہیں۔ لیکن اب یہاں بھی شیروں کی تعداد گھٹ رہی ہے اور ان کی حفاظت کے لیۓ ہندوستان کی حکومت نے ایک خصوصی ٹائگر ٹاسک فورس ٹیم بنائی ہے۔ مگر ان کوششوں کے باوجود شیروں کی تعداد میں تشویشناک رفتار سے مسلسل کمی آرہی ہے۔ اب ان کی صحیح تعداد کے بارے میں بھی اندیشے ظاہر کیۓ جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بھارتی شیروں کی کھالوں کی تجارت 23 September, 2005 | انڈیا جنگلی حیات کا بچاؤ اور مالی مفادات03 October, 2004 | نیٹ سائنس مخدوش انواع کے تحفظ کا معاہدہ21 February, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||