چین اور انڈیا کی ترقی: مقابلہ آسان نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا اور چین کی تیز معاشی ترقی سے گزشتہ برسوں میں دونوں ملکوں میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں لیکن یہ خوشحالی اپنے ساتھ کئی مسائل بھی لائی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سنہ دو ہزار تین کا سال تھا جب چین دنیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ مجھے معلوم نہیں اس کی خاص وجہ کیا تھی، وہ کیا واقعہ یا خبر تھی۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ تب بیجنگ میں بی بی سی کے دفتر میں فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی جواب تک رکی نہیں۔ تین سال بعد آج پھر فون کی گھنٹی بج رہی ہے لیکن فرق یہ ہے اس دفعہ یہ چین کی بجائے انڈیا میں بج رہی ہے۔ کوئی بھی میگزین اٹھا کر دیکھ لیں یا کوئی ٹی وی چینل لگا کر دیکھ لیں، اس پر صرف چین کی ترقی کی بات نہیں ہو رہی بلکہ چین اور انڈیا دونوں کی ترقی کی۔ ان دونوں ملکوں کا تقابل کرنے کی خواہش بےوجہ نہیں ہے کیونکہ دونوں کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے اور دونوں ہی دس فیصد سالانہ شرح سے ترقی کر رہے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ دنیا میں کئی ایسے لوگ ہیں جن کو امید ہے کہ چونکہ انڈیا میں جمہوریت ہے اس لیے وہ نئی معاشی طاقت بننے کی اس دوڑ میں چین کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔ مجھے یقین نہیں آتا۔ میں نے گزشتہ آٹھ سال بیجنگ میں گزارے ہیں جبکہ دلیً میں مجھے صرف چار دن ہوئے ہیں۔ میرے لیے دونوں ملکوں کا موازنہ کرنا مشکل ہے لیکن میں نے انڈیا میں جو چند دن گزارے ہیں انہوں نے مجھے چین کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کا موقع دیا ہے۔ دلیً کا تجربہ آنکھیں خیرہ کر دینے والا ہے۔ ایسا لگتا ہے ساری نسل انسانی کو دبا کر ایک شہر میں جمع کر دیا گیا ہے۔ شہر کی گلیاں انسانوں کے دباؤ کے نیچے کراہ رہی ہیں اور اس کی فضا بہرہ کر دینی والے شور اور بدبو سے اٹی ہوئی ہے۔ ٹی وی چلا کر دیکھ لیں تو اس پر بھی یہی کچھ نظر آتا ہے۔ بالی وڈ اور پاپ ویڈیوز سے بھرے ہیجان انگیز رومانوی چینلز کی بھیڑ کے درمیان خبروں کے چینلز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جن پر لگاتار سیاسی سکینڈلز اور امراء کے طرز زندگی کی خبروں اور تصاویر کا ایک سیلاب ہے۔ اگر آپ میری طرح چین سے انڈیا آئے ہوں تو یہ سب دیکھ کر آپ کو ایک دھچکا ضرور لگے۔
انڈیا میں ایک کھلے معاشرے میں پہنچنے کی ابتدائی خوشی کے بعد جلد ہی میں سنجیدہ چیزوں کو نوٹ کرنے لگا۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہرا، وہ مہنگا تھا اور بُرا بھی۔ میں نے اپنے کمرے میں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کنکشن کا سؤچ تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی کیونکہ چین میں آپ کو یہ سہولت ہر ہوٹل میں دستیاب ہوتی ہے۔ دلیً کے ہوٹل میں اس قسم کی کوئی چیز دستیاب نہیں تھی۔ اس کے بعد رات کو جب درجہ حرارت تیس ڈگری سے زیادہ تھا تو بجلی بھی چلی گئی۔ میں گھنٹوں پسینے میں شرابور سونے کی ناکام کوشش کرتا رہا اور ساتھ سوچتا رہا کہ کاش میں چین میں ہوتا جہاں بجلی کبھی نہیں جاتی۔ لیکن واپس چین جانا آسان نہیں تھا۔ میں نے اپنے جہاز کے ٹکٹ کو دیکھا۔ پرواز کی روانگی کا وقت لکھا تھا سوا تین بجے صبح، جو کہ یقیناً غلط تھا۔ میں نے ہوٹل کے استقبالیہ کا نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے آواز آئی ’جی ہاں یہی وقت ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ دلیً کا ایئر پورٹ بہت چھوٹا ہے اس لیے یہاں سے بہت زیادہ پروازیں رات کے وقت بھی روانہ ہوتی ہیں۔‘ وہ مذاق نہیں کر رہا تھا۔ میری ٹیکسی کو جے پور روڈ کے راستے ایئر پورٹ پہنچنے میں بھی دقت ہو رہی تھی۔اس دو رویہ سڑک پر ٹریفک دونوں طرف سے آنے والی گاڑیوں کی لمبی قطاروں کی وجہ سے تقریباً رینگ رہی تھی۔ آخر کار میں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پہنچ ہی گیا۔ ایئر پورٹ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ مسافروں کی قطاریں اتنی لمبی تھیں کہ وہ پورے ایئر پورٹ سے ہوتی ہوئیں وہی ختم ہو رہی تھیں جہاں سے شروع ہو رہی تھیں۔ غیر ملکی مسافروں کی آنکھوں میں حیرت تھی جب کہ انڈین مسافروں کی آنکھوں میں بیزاری جو کہہ رہی تھی کہ وہاس انتظار کے عادی ہو چکے ہیں۔ ’کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے؟‘ میں نے قطار میں کھڑے ایک شخص سے پوچھا۔ آخر کار مجھے شنگھائی جانے والے جہاز پر بٹھا دیا گیا۔ میرے ساتھ والی نشت پر نیکر اور جاگر پہنے ایک انڈین شخص بیٹھا تھا جس کا لہجہ دوستانہ تھا۔ ’آپ چین پہلی دفعہ جا رہے ہیں؟‘ اس نے پوچھا۔ ’نہیں، میں وہاں رہتا ہوں۔‘ ’واقعی۔ تو مجھے بتائیں کی میں چین میں کس چیز کی توقع کروں۔‘ اس نے قدرے حیرت سے کہا۔ ’میرا خیال ہے آپ کو ایک حیرت انگیز تجربے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔‘ میں نے کہا۔ چھ گھنٹے بعد ہمارا ہوائی جہاز رینگتا ہوا شنگھائی کے پوڈانگ انٹر نیشنل ایئر پورٹ کی شیشے اور سٹیل سے بنی شاندار عمارت کے ساتھ آ کر رکا۔ ہم جیسے ہی جدید ترین ایئر پورٹ کی ٹھنڈک سے بھرپور اور پرسکون عمارت میں پہنچے تو میرے ہمسفر کا منہ قدرے لٹگ گیا۔ ’مجھے اس کی توقع نہیں تھی‘ اس نے پھٹی آنکوں کے ساتھ کہا۔ ’بالکل نہیں، مجھے قطعاً اس کی توقع نہیں تھی۔‘ اس کی یہ بات سن کر میں بھی چین کو ایک نئی نظر سے دیکھنے لگا۔
اسی دن بعد میں جب میں ایئر پورٹ سے گھر اپنی گاڑی میں ایک چھ رویہ سڑک سے جا رہا تھا تو میں اُس ملک میں واپس آنے پر خوش تھا جہاں چیزیں کام کرتی ہیں۔‘ اور یقین مانیں، میں صرف ایئر پورٹ اور سڑکوں کی بات نہیں کر رہا۔ بیجنگ کے مضافات میں ایک گاؤں سے گزرتے ہوئے میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ لوگوں نے کتنے عمدہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب میں دلیً میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا تھا وہاں ہزاروں لوگ ہر رات سڑکوں پر سو رہے تھے اور وہ جسے اپنا گھر کہہ رہے تھے وہ سڑک پر پڑے چند چیتھڑوں سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ آپ چین کے دور دراز گاؤں میں بھی چلے جائیں، آپ کو یہ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ دلیً میں مجھے انڈیا کی نئی معیشت کے بارے میں بہت کچھ بتایا گیا تھا، خاص طور پر ان ہزاروں نوجوانوں کے بارے میں جو جدید ترین کمپوٹر سوفٹ ویئرز بنا رہے ہیں۔ اس سے مجھے چین کے وہ ہزاروں لوگ یاد آئے جو شہروں میں آ کر فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں اور سوئی سے لیکر پلازما ٹی وی تک، سب کچھ بنا رہے ہیں۔ مجھ ان کا چین کے نیو ایئر پر نوٹوں سے جیبیں بھرے اور تحفوں کے انبار لیے اپنے گاؤں جانا بھی یاد آ رہا تھا۔ مانا کہ چین میں ایک آزاد معاشرہ نہیں ہے اور چین کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کی کامیابیوں کو بھی کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ چین وہاں ہے کھڑا ہے جس کا مقابلہ انڈیا اپنے آزاد اور جمہوری معاشرے کے باوجود نہیں کر سکتا۔ یہ مضمون بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ’ہمارے نامہ نگار‘ سے لیا گیا جو کہ ہفتہ بائیس اگست کو نشر ہوا تھا۔ | اسی بارے میں انڈیا: اقتصادی ترقی کے نئے تقاضے 27 February, 2006 | انڈیا چین کا اسلحہ، خریدار بے قرار17 June, 2006 | آس پاس بھارت میں شہروں کی ترقی کا اعلان03 December, 2005 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا چین ترقی کی رفتار سے پریشان 16 April, 2006 | آس پاس چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی03 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||