چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک چینی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق سن دو ہزار پانچ میں چینی معیشت کی شرح ترقی نو اعشاریہ آٹھ فیصد رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ غیرمتوقع طور پر چینی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ او سِنکیانگ نے جو چین کے قومی ترقیاتی اور اصلاحاتی کمیشن کے ایک سینیئر اہلکار ہیں بتایا کہ اندازہ ہے کہ معیشت کی شرح ترقی کم سے کم نو اعشاریہ آٹھ فیصد رہی ہے۔ اگر یہ شرح ترقی حتمی تجزیہ میں صحیح ثابت ہوتی ہے جیسا کہ امید ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دوہزار تین اور دو ہزار چار کے مقابلے میں چینی معیشت کی شرح ترقی اس سال بہتر رہی۔ پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ دو ہزار پانچ میں چینی معیشت کی شرح ترقی نو اعشاریہ چار فیصد رہی جو کہ کچھ گزشتہ دو برسوں کے دوران تھی۔ دوہزار تین اور دوہزار چار میں شرح ترقی نو اعشاریہ پانچ فیصد رہی تھی۔ دو ہزار چار میں چین کی سالانہ آمدنی اور پیداوار ایک اعشاریہ نو ٹریلین تھی، جو کہ اندازے سے اٹھارہ فیصد زیادہ ثابت ہوئی تھی۔ دوہزار پانچ کے لیے سرکاری طور پر چینی معیشت کی شرح ترقی کا اندازہ اسی ماہ شائع کیا جانے والا ہے۔ | اسی بارے میں ’یوان کی قیمت نہیں بدلیں گے‘26 June, 2005 | آس پاس چین: نئے غیرملکی چینلوں پر پابندی04 August, 2005 | آس پاس چین اپنے عوام کو آزادیاں دے: بش20 November, 2005 | آس پاس دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس چینی دانشوروں کا کھلا خط13 December, 2005 | آس پاس بیجنگ نیوز کے صحافیوں کا احتجاج31 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||