دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی حکام کے مطابق کوئلے کی ایک کان میں ہونے والے گیس دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ تیرہ لاپتہ ہیں۔ صوبہ ہیبیئی کے شہر تانگشن میں نجی طور پر چلائے جانے والی ایک کان میں ہونے والا یہ دھماکہ کافی بڑا تھا۔ گزشتہ دو ہفتوں میں یہ اس طرح کا تیسرا حادثہ ہے۔ چینی حکومت کہتی رہی ہے کہ وہ کوئلے کی کانوں کی حالت بہتر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ چین کی کانوں میں کام کرنے والے کان کن کافی خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال چھ ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ چین کی حکومت کانوں کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے اور حفاظتی اقدامات کا اعلان بھی کرتی رہی ہے۔ ہیبیئی صوبے میں ہونے والے ایک دوسرے واقعے میں جمعہ کے روز سے ہی بیالیس کان کنوں کو بچانے کی کوشش جاری ہے جو سیلاب کی وجہ سے کان میں پھنس گئے تھے۔ اگست میں چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی تین چوتھائی کوئلے کی کانوں میں کام ملتوی کر رہا ہے تاکہ حفاظتی انتظامات بہتر بنائے جا سکیں۔ سات ہزار کے قریب متاثرہ کانوں کو دوبارہ کام شروع کرنے سے پہلے حکومت کی طرف سے بنائے گئے حفاظتی انتظامات کے معیار پر پورا اترنا پڑے گا۔ | اسی بارے میں چینی کان میں دھماکہ: 56 ہلاک21 October, 2004 | آس پاس چین: ایک سو ستر کان کن پھنس گئے28 November, 2004 | آس پاس چین میں دھماکہ، 203 ہلاک15 February, 2005 | آس پاس چین: کوئلے کان میں دھماکہ02 November, 2005 | آس پاس کوئلے کی کان میں دھماکہ، 68 ہلاک28 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||