چینی دانشوروں کا کھلا خط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں کئی دانشوروں نے ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں ملک کے جنوب میں مظاہرین پر گولی چلانے کی مذمت کی گئی ہے۔ چین کے صوبے گوانگڈونگ میں حکومت کی جانب سے بجلی کے منصوبے کے لیے مقامی لوگوں کی زمین لے لی گئی تھی جس کی وجہ سے لوگ احتجاج کررہے تھے۔ گزشتہ ہفتے پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہوگئے۔ چینی حکومت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تین ہے لیکن مظاہرین کے حساب سے بیس لوگ مارے گئے ہیں۔ چینی دانشوروں کی جانب سے یہ کھلا خط اہم ہے کیوں کہ چین میں اظہارِ خیال کی آزادی نہیں ہے۔ اس خط میں پولیس کارروائی کا انیس سو نواسی میں تیانانمین سکوائر میں مظاہرین پر ہونے والی فوجی کارروائی سے موازنہ کیا گیا ہے۔ یہ خط انٹرنیٹ پر شائع کیا گیا ہے اور دانشوروں نے اس پر اپنےدستخط بھی کیے ہیں۔ چین کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف کھلے عام احتجاج کی اجازت نہیں دی ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گوانگڈونگ صوبے کے شہر ڈانگژو میں ہونے والی پولیس کارروائی کی تحقیات کی جائے اور صحافیوں کو اس بارے میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دی جائے۔ دانشوروں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ چینی سماج کو ایک بحران کا سامنا ہے کیوں کہ امیر لوگ ہر وہ چیز غریبوں سے ہتھیا رہے ہیں جو وہ لےسکتے ہیں جس کی وجہ سے اختلافات پیدا ہورہے ہیں۔ دانشوروں کا کھلا خط اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں چین کے سیاسی نظام کی مذمت کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمہوریت کے بغیر ان اختلافات کا حل پرامن طور پر نہیں ہوسکتا ہے۔ چین کے دیہی علاقوں میں اختلافات اور جھگڑے عام ہوتے جارہے ہیں اور حکومت کے مطابق گزشتہ سال چوہتر ہزار مظاہرے ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں چین: نئے غیرملکی چینلوں پر پابندی04 August, 2005 | آس پاس چین: صحافی پر جاسوسی کا الزام05 August, 2005 | آس پاس چین اپنے عوام کو آزادیاں دے: بش20 November, 2005 | آس پاس دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس چین:فائرنگ کا حکم دینے والاافسرگرفتار11 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||