چین:فائرنگ کا حکم دینے والاافسرگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق جنوبی چین میں حکام نے اس افسر کو گرفتارکر لیا ہے جس نے گزشتہ ہفتے ہونے والے مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔ اس سےقبل چینی حکام نےاس بات کی تصدیق کی تھی کہ چینی پولیس کی فائرنگ سے متعدد دیہاتی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دیہاتی منگل کو چینی صوبے گوانگڈونگ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شریک تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس نے ایک ہزار کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ یہ مظاہرین حکومت کی جانب سے اپنی زمین کا معاوضہ نہ دیے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین تھی جبکہ پانچ افردا زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے بیس کے قریب افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈانگزو نامی قصبے میں تین سو کے قریب افراد نے ایک مظاہرے میں حصہ لیا اور چند افراد کے اشتعال دلانے پر جلوس میں شامل افراد نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں پر پٹرول بموں اور چاقوؤں سے حملہ کر دیا اور ان پر دھماکہ خیز مواد بھی پھینکا۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ جب مشتعل ہجوم نے پولیس پر دھماکہ خیز مواد پھینکا تو ہر طرف اندھیرا چھا گیا اور پولیس کو ان افراد کو خبردار کرنے کے لیے گولی چلانا پڑی‘۔ تاہم دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ پولیس پر کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد نہیں پھینکا گیا بلکہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر صرف آتشبازی کا سامان پھینکا تھا۔ چین میں بی بی سی کی نمائندہ کا کہنا ہے کہ سنہ 1989 میں تیانمن سکوائر میں مظاہرین پر سکیورٹی اداروں کے جانب سے طاقت کے استعمال اور عالمی دنیا کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کے بعد چینی پولیس عام طور پر مظاہرین پر اصل گولیاں نہیں چلاتی اور یہ ایک غیرمعمولی قسم کا واقعہ ہے۔ | اسی بارے میں چین اپنے عوام کو آزادیاں دے: بش20 November, 2005 | آس پاس چین میں قیدیوں پر ’تشدد‘ کے واقعات02 December, 2005 | آس پاس دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||