چین میں قیدیوں پر ’تشدد‘ کے واقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ چین میں قیدیوں پر ’تشدد‘ کے واقعات ’وسیع‘ پیمانے پر پائے جاتے ہیں لیکن شہری علاقوں میں ان میں کمی کا رحجان ہے۔ اقوام متحدہ کے سفیر منفریڈ نوواک نے، جو چین میں دو ہفتے گزارنے کے بعد لوٹے ہیں، کہا کہ چینی حکام قیدیوں پر تشدد کے واقعات کے بارے میں جاننے کی ان کی کوششوں میں رخنہ ڈالتے رہے۔ چین کی حکومت نے انیس سو چھیانوے میں قیدیوں سے تفتیش کے لیے ’تشدد‘ کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی لیکن حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چینی پولیس اب بھی تفتیش کے لیے تشدد کا استعمال کرتی ہے۔ منفریڈ نوواک تشدد کے معاملات سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے خصوصی سفیر ہیں۔ انہوں نے بیجنگ، تِبت اور ژنجیانگ کے علاقوں میں حراستی مراکز کا دورہ کیا۔ ایک بیان میں نوواک نے کہا کہ ان کی نقل و حرکت پر چینی حکومت نے کڑی نظر رکھی تھی۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے ’دورے کے دوران (تشدد کے شکار) افراد اور ان کے خاندان کے اراکین کو سکیورٹی حکام کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں، انہیں (نوواک سے) نہ ملنے کا حکم دیا گیا اور ان سے ملاقات کرنے سے جسمانی طور پر روکا گیا۔‘ منفریڈ نوواک نے کہا کہ تشدد کا استعمال اس لیے جاری ہے کیوں کہ پولیس کے افسران پر شواہد حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو ’ذہنی اذیت‘ بھی دی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سفیر نے کہا کہ جب تک بڑے پیمانے پر ایک غیرجانبدار عدلیہ کے حق میں قانونی اصلاحات نہیں کی جاتیں تب تک چین میں تشدد کے واقعات پر مؤثر کنٹرول نہیں ہوسکتا۔ نوواک نے چین کا دورہ ایسے وقت کیا ہے جب چینی ذرائع ابلاغ میں پولیس کے ذریعے قیدیوں کی تفتیش کے بارے میں ذہنی اور جسمانی تشدد کے استعمال پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ |
اسی بارے میں طاقت کا استعمال ممکن ہے:چین08 March, 2005 | آس پاس دیوارِ چین خلا سے نظر آنے کی تصدیق19 April, 2005 | آس پاس چین: وسیع پیمانے پرگرفتاریوں کا الزام29 April, 2005 | آس پاس چینی کمیونسٹ بمقابلہ بدعنوانی 16 September, 2004 | آس پاس چین: نئے غیرملکی چینلوں پر پابندی04 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||