چین: گھریلو تشدد پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین نے قومی پالیسی میں پہلی مرتبہ جنسی طور پر ہراسان کرنےاور گھریلو تشدد کو ممنوع قرار دے کرمعاشرے میں جنسی برابری کےنظام کومتعارف کروایا ہے۔ قانون میں یہ ترمیم ملک کے قانون ساز ادارے سٹیٹڈنگ کمیٹی آف نیشنل پیپلز کانگریس نے سرانجام دیں۔ اس قانون کی رو سےخواتین تشدد کرنے والےشوہروں اور ان افراد کے خلاف قانونی کاروائی کر سکیں گی جو انہیں کسی طرح بھی ہراساں کریں گے۔ بیجنگ میں بی بی سی کےنامہ نگار کے مطابق چین میں خواتین کو ابھی تک برابری کے حقوق حاصل نہیں اورانہیں گھریلو تشدد کا بھی سامنا ہے۔ جو ایک بہت بڑے مسئلہ کی شکل کا اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو جنسی طور پر ہراسان کرنے کا عمل جاری ہے اور بڑھتا جا رہا ہے۔ آٹھ ہزار خواتین سے کیے گئےقومی سروے کےمطابق بائیس فیصد مردوں کے مقابلے میں انناسی فیصد خواتین نےجنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا اعتراف کیا۔ یہ سروے سینا ڈاٹ کام اور چیٹ میگزین نے کروایا تھا۔
چین کی اکیڈمی برائے سوشل سائنسز نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا کہ سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والی اٹھارہ فیصد خواتین نے جبکہ ان کے مقابلے میں پرائیوٹ یا غیر ملکی فرموں میں کام کرنے والی چالیس فیصد خواتین نے جنسی طور پر نشانہ بنائے جانے کااقرار کیا۔ قانون کے بن جانےاور اس کے عمل درآمد میں ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔ اس کے بعد شاید خواتین کے حوالے سےمردوں کے رویوں میں تبدیلی لانے میں بھی ایک صدی یا دو صدیاں لگیں۔ اس قانوں کا اطلاق ملکی اور غیر ملکی تمام کمنیوں پر ہو گا اور انہیں اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے کیسوں کے ظہور پذیر ہونے کو روکنے کی ہر ممکن کوشش پر عمل درآمد کریں۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کےمطابق ملک کی قومی پالیسی میں جنسی برابری کونمایاں اور بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||