| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
موجد خواتین کو خراجِ تحسین
ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تاریخ میں خواتین بھی کئی اہم اشیاء کی موجد ہیں اس عام خیال کے برعکس کہ مختلف ایجادات میں خواتین کا زیادہ ہاتھ نہیں ہے۔ برطانوی مصنفہ ڈیبورا جیف نے اپنی حالیہ کتاب ’ذہین خواتین‘ میں ان خواتین کے بارے میں تحقیق کی ہے جنہوں نے اپنے خیالات سے دنیا کو تبدیل کردیا۔ ایسی ہی کئی ایجادات میں گاڑی کے سامنے کے شیشے کے وائپر، برتن دھونے کے لئے ڈش واشر، کافی بنانے کا فلٹر اور بلٹ پروف جیکٹ شامل ہیں۔ جیف نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ یہ کتاب لکھ رہی تھیں تو کئی افراد نے اس خیال کا اظہار کیا کہ خواتین نے تو کبھی کچھ ایجاد ہی نہیں کیا۔ ’پھر میں نے ثبوت جمع کئے تو معلوم ہوا کہ کئی ایجادات کا، جوکہ درحقیقت خواتین نے کی ہیں، سہرا خواتین کے سر تصور نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ سن سولہ سو سینتیس سے انیس سو چودہ کے عرصے کے دوران برطانیہ میں خواتین نے تقریباً پانچ سو اشیاء ایجاد کی ہیں۔ جیف کا کہنا ہے کہ کئی ایجادات کی نوعیت گھریلو ہے یعنی کہ یہ ایسی اشیاء ہیں جو روز مرہ گھریلو کاموں میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم کچھ بے انتہا اہم نوعیت کی اشیاء ایجاد کرنے کا سہرا بھی خواتین کے سر ہے مثلاً پانی میں جان بچانے والی لائیف جیکٹ یا سمندر میں سگنل دینے کا نظام۔ جدید ایجادات میں امریکہ کی باربرا آسکنز نے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلاء میں تصاویر لینے کے لئے ایک نیا طریقہ کار ایجاد کیا ہے۔ اسی طرح بچوں میں مقبول باربی ڈال بھی ایک خاتون رتھ ہینڈلر نے سن انیس سو انسٹھ میں ایجاد کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||