چین: وسیع پیمانے پرگرفتاریوں کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ چین کے حکام نے ملک گیر سطح پر ان لوگوں کے خلاف اقدامات کرنے کا حکم دیا جو حکومت اہلکاروں کے خلاف درخواستیں دیتے ہیں۔ اس گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بیجنگ، شنگھائی اور شمال مشرقی چین میں بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور بیجنگ میں صرف ایک مقام پر چھ سو سے زیادہ لوگ زیرِ حراست ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان لوگوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ چین میں یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت کی گئی ہیں جب چینی حکومت ایک نیا قانون نافذ کرنے والی ہے جس کے تحت کسی سرکاری اہلکار کے خلاف مقدمات دائر نہیں کیے جا سکیں گے۔ یہ نیا قانون اتوار سے نافذ عمل ہو گا۔ چین میں لاکھوں لوگ سرکاری اہلکاروں کی بدعنوانیوں، پولیس کی زیادتیوں اور دیگر الزامات کے تحت حکومت کو شکایت بھیجتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||