چین تائیوان قریبی تعلقات کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تائیوان میں حزبِ اختلاف نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما لیئن چن نے بیجنگ میں طلبا سے کہا ہے کہ چین اور تائیوان کو موجودہ نظام جوں کے توں برقرار رکھنا چاہئے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ دونوں سمت کے لوگ مذاکرات اور مصالحت چاہتے ہیں محاذ آرائی نہیں۔ انہوں نے یہ تقریر چینی وزیر آعظم ہو جنتاؤ کے ساتھ تاریخی مذاکرات سے پہلے کی ہے۔ کمیونسٹ رہنما کے ساتھ قوم پرستوں کی 1949 کے بعد یہ پہلی ملاقات ہوگی۔ مسٹر لین یونیورسٹی کے طالب علموں سے خطاب کر رہے تھے اور یہ اعزاز انہوں نے دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور تائیوان کی رسمی آزادی کی بات کو اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو صورتِ حال جوں کی توں برقرار رکھنی چاہئے جہاں دونوں ملکوں کی اپنی اپنی الگ حکومت ہے۔ 1949 میں چین میں خانہ جنگی کے خاتمہ کے بعد سے ان دونوں ملکوں میں الگ الگ حکومتیں ہیں۔ چین اس جزیرے کو اپنا ہی علاقہ تصور کرتا ہے اور چین نے ہانگ کانگ کی طرح ایک ملک اور دو نظام جیسے حل کی تجویز بھی رکھی تھی لیکن تائیوان میں زیادہ تر لوگ موجودہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم مسٹر لیئن کہ کہنا تھا کہ چین سیاسی اصلاحات کو تیز کر سکتا ہے مسٹر لیین چین کے آٹھ روزہ دورے پر گئے ہیں جہاں تائیوان کے وفد کا پر جوش خیر مقدم کیا گیا۔لیکن خود تائیوان میں اس دورے پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔ کچھ کو امید ہے کہ مسٹر لیئن بیجنگ کا بھروسہ حاصل کر لیں گے لیکن تائیوان کے صدر اور ان کی حکمران جماعت ڈیمو کریٹک پرو گریسو پارٹی جو چین سے آزادی کے حق میں ہے ان کا کہنا ہے کہ چین اس دورے کو رائے عامہ تقسیم کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ بدھ کو امریکہ نے اس دورے کا خیر مقدم کیا لیکن بیجنگ سے اپیل کی کہ وہ براہِ راست صدر چن سے مزاکرات کرے۔ مسٹر لیئن اس دورے کو امن کا سفر بتا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس دورے سے مصالحت کی سمت بڑھنے کی کوشش کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||