چینی کمیونسٹ بمقابلہ بدعنوانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کی کمیونسٹ پارٹی کا اہم سالانہ اجلاس شروع ہو گیا ہے جس میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما نہ صرف پارٹی میں احتساب کے عمل کو بہتر کرنے اور معاملات کو شفاف بنانے پر غور کریں گے بلکہ بڑھتی ہوئی بد عنوانیوں سے نمٹنے کے لیے بھی لائحہ عمل تجویز کرنا چاہیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی کی با اثر سنٹرل کمیٹی کے ایک سو اٹھانوے ممبران اس چار روزہ اجلاس کے لیے جمعرات کو بیجنگ کے ایک ہوٹل میں جمع ہوئے ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موجودہ صدر ہو جنتاؤ اور سابق صدر ژیانگ ژامین کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے جنگ کی افواہیں گردش میں ہیں۔ اجلاس بند کمرے میں ہو رہا ہے اور کارروائی کی تفصیلات اتوار تک نہیں آئیں گی۔ تا ہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پارٹی انتظام کو بہتر بنانے پر زور دیا جائے گا۔ ژیانگ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فوج کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ مگر ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ ملک میں معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں میں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ سن دو ہزار میں جب سے ہو نے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کی قانونی حیثیت بر قرار رہے اور اس میں بدعنوانیوں کو ختم کیا جائے۔ بدھ کو چین کی پارلیمان کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر نیشنل پیپلز کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے ہو نے ہو نے کہا کہ تبدیلی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’طاقت کے بے لگام استعمال سے بدعنوانی اور طاقت کا غلط استعمال بڑھنے کا خدشہ موجود رہے گا۔ مگر انہوں نے کہا کہ اگر چین نے مغرب کے سیاسی نظام کی تقلید کی جو اسے اندھیرے میں لے جائے گا اور واضح کیا کہ وہ ملک میں ایک پارٹی کا نظام ہی چاہتے ہیں۔ اجلاس سے پہلے پولیس نے ہزاروں لوگوں کو حراست میں لے لیا جو مقامی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف آواز بلند کرنے بیجنگ آئے تھے۔ بیجنگ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اتنے زیادہ لوگوں کا شکایت کے لیے دارالحکومت میں آنا ہی پارٹی رہنماؤں کے لیے سوچ کا مقام ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||