BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 November, 2005, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین اپنے عوام کو آزادیاں دے: بش
صدر بش
’چین سے دوستانہ تعلقات امریکہ کے لیے ضروری ہیں‘
امریکی صدر جارج بش نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عوام کو مزید سماجی، سیاسی اور مذہبی آزادی فراہم کرے۔

دورہ بیجنگ کے موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کے چینی ہم منصب ہو جن تاؤ تجارتی عدم توازن کو کم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔

صدر بش اور چینی صدر کی ملاقات اس موقع پر ہوئی ہے جب امریکہ میں ارزاں چینی مصنوعات کے امریکی صنعت پر پڑنے والے اثر سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کسی حد تک کشیدہ ہیں۔

امریکہ کے تائیوان کے ساتھ بہتر تعلقات بھی امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی کا ایک سبب ہیں اور اس دورے میں چینی صدر نے واضح طور پر امریکی صدر سے اپنے خدشات کا ذکر کیا ہے۔

چینی صدر ہوجن تاؤ کا کہنا تھا کہ انہوں نے تجارتی توازن کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ دو طرفہ تجارت کے نتیجے میں جو مشکلات ابھر سکتی ہیں انہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے‘۔

چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ چین اشیاء کی غیرقانونی نقول بنانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان نقول کی وجہ سے امریکی کاروباری اداروں کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ چین سے دوستانہ تعلقات امریکہ کے لیے ضروری ہیں اور انہوں نے چینی صدر کو دورہ امریکہ کی بھی دعوت دی۔

صدر بش نے بیجنگ کے ایک چرچ میں دعائیہ سروس میں بھی شرکت کی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بش کی دعائیہ سروس میں شرکت کا مقصد چین میں مختلف مذاہب کی آزادی کی کوشش کی حمایت کرنا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد