چین ترقی کی رفتار سے پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہُو جنتاؤ نے اپنے ملک کی اقتصادی ترقی کی تیز تر رفتار پر تشویس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اقصادی ترقی کی شرح 10 فیصد سالانہ رہی لیکن ترقی اتنی تیز تر رفتار حکومت کا ہدف نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دینا چاہتی ہے۔ چینی صدر نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ تیز تر اقتصادی ترقی ملک کے وسائل اور ماحولیات پر بھی اثر انداز ہو گی۔ تازہ ترین اعداد و شمار اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ چین میں اقتصادی ترقی کی تیز رفتاری میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہُو جنتاؤ نے کہا ہے کہ ’حکومت تیز تر اقتصادی ترقی نہیں چاہتی۔ ہمیں ترقی کی رفتار میں تیزی، معیار اور اس کے اثرات پر تشویش ہے‘۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تائیوان میں حزبِ اختلاف کے سابق رہنما لئین چان سے ملاقات کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے وسائل اور ماحول کو بچانے اور عام لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے بارے میں پُر تشویش ہیں‘۔ | اسی بارے میں چین: پہلا عالمی بدھ مت فورم 13 April, 2006 | آس پاس چین کاعروج: اقتصادی اثرات09 April, 2006 | قلم اور کالم چین کاعروج، نقصان ایشیائی ملکوں کا08 April, 2006 | قلم اور کالم چین اور آسٹریلیا میں یورینیم معاہدہ 03 April, 2006 | آس پاس ’بےچینی صحیح، اشتعال جائز نہیں‘09 April, 2006 | کھیل چین کےغریب دیہاتی کی ترقی 05 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||