چین کاعروج، نقصان ایشیائی ملکوں کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی مصنف ٹیڈ سی فش مین نے ’چائنا ان کارپوریٹڈ‘ کے نام سے چین کے اقتصادی عروج پر ساڑھے تین سو صفحوں پر مشتمل کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب اس نقطۂ نظر سےلکھی گئی ہے کہ چین کے ایک سپرپاور بن جانے سے امریکہ اور دنیا کو کن اقتصادی اور سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ شکاگو میں مقیم مصنف ٹیڈ سی فش مین شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج کے رکن رہ چکے ہیں۔ ان کے مضامین نیو یارک ٹائمز، یو ایس ٹوڈے اور دوسرے امریکی کاروباری رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ٹیڈ فش مین کا کہنا ہے کہ چین ہر جگہ موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں ’میڈ ان چائنا‘ کا لفظ اتنا عام ہوگیا ہے جیسے روپے پیسے کا استعمال۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم چیزیں خریدنے جائیں یا ملازمت کرنے ہم چین سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ چین کی آبادی سرکاری طور پر ایک ارب تیس کروڑ بتائی جاتی ہے لیکن حقیقت میں یہ ڈیڑھ ارب لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچیس برسوں میں چین نے جو زبردست معاشی ترقی کی ہے اس کے پیچھے سب سے بڑی حقیقت یہ کثیر آبادی ہی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ چین دنیا کی ورکشاپ ہے اور چین میں سرمایہ کاری کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہاں مزدور اور کارکن کم اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں کئی ملکوں میں کارکنوں کی اجرت چین سے بھی کم ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ چین کو دوسرے ملکوں سے ممتاز کرنے والی بات یہ ہے کہ یہاں امن اور استحکام ہے۔ یہ ملک صنعتی مال بنانے والوں کو قابل اعتماد اور باصلاحیت کارکن مہیا کرتا ہے۔ چین کے محنت کش وہ لوگ ہیں جن پر حکومت نے ایک نظم و ضبط نافذ کیا ہوا ہے۔
مصنف کا کہنا ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی کی وجہ سے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں چین کے دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقل ہورہے ہیں۔ کتاب میں تخمینہ لگایاگیا ہے کہ اب تک نو کروڑ سے تیس کروڑ لوگ چین کے اندر ہجرت کرچکے ہیں۔ یہ تعداد امریکہ میں کارکنوں کی کُل تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق سنہ دو ہزار دس میں چین کی آدھی آبادی شہروں میں مقیم ہوگی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اس وقت چین کی معیشت دنیا کی ساتویں بڑی معیشت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار تین میں چین کی کل مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) ایک کھرب چالیس ارب ڈالر کے برابر تھی۔ امریکہ دس کھرب ڈالر کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے ساتھ سنہ دو ہزار تین میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھا۔ یوں امریکی معیشت چین کی معیشت سے سات گنا بڑی ہے۔ سنہ دو ہزار تین میں دنیا کا جی ڈی پی ساڑھے چھتیس کھرب ڈالر تھا۔ مصنف کا دعوی ہے کہ حقیقت میں چین کی معیشت کا حجم سرکاری تخمینوں سے بڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چین کے مختلف صوبے پسماندگی کی بنیاد پر مرکزی حکومت سے زیادہ فنڈز لینے کے لیے اپنی ترقی کے اعداد وشمار کم کرکے بتاتے ہیں۔ اس لیے مصنف کا اندازہ ہے کہ چین کی معیشت سرکاری اعداد و شمار کی نسبت پندرہ فیصد زیادہ بڑی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کا خیال ہے کہ چین کا جی ڈی پی ڈیڑھ کھرب ڈالر نہیں بلکہ ساڑھے چھ کھرب ڈالر ہے۔ اس طرح چین کی معیشت امریکی معیشت سے سات گنا چھوٹی نہیں بلکہ اس کے دو تہائی کے برابر ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ جدید تاریخ میں چین ایسی معاشی ترقی کی کوئی مثال موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچیس سال پہلے جب چین نے اپنی اقتصادی اصلاحات شروع کی تھیں اس وقت سے اب تک چین کی معیشت میں اوسطا ساڑھے نو فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی ہوئی ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں بنائے جانے والی ہر بیس چیزوں میں سے ایک چیز چین میں تیار ہورہی ہے۔ سنہ دو ہزار تین میں چین نے امریکہ کو جو چیزیں بیچیں ان کی مالیت اُن چیزوں سے جو چین نے امریکہ سے خریدیں ایک سو باون ارب ڈالر زیادہ تھی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ چین امریکہ کے ساتھ تجارت میں جو نفع کمارہا ہے اس کازیادہ تر نقصان ایشیائی ملکوں کو ہوا جن کی جگہ چین آگیا۔
عالمی معیشت میں چین صرف چیزیں بیچنے کے لحاظ سے ہی اہم ملک نہیں بلکہ چیزیں خریدنے کے طور بھی اہم ملک ہے۔ مورگن اسٹینلے کے ماہر معیشت اسٹیفن روچ کے مطابق سنہ دو ہزار تین میں چین نے دنیا کا سات فیصد خام تیل، ایک چوتھائی ایلومینیم اور فولاد (اسٹیل)، ایک تہائی خام لوہا اور کوئلہ اور چالیس فیصد سیمنٹ خریدا تھا۔ مصنف کہتے ہیں کہ جرمنی اور جاپان کو چین سے تجارت میں زبردست منافع ہوتا ہے کیونکہ چین دنیا میں مشینری خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسے وہ مشینی سامان چاہیے ہوتا ہے جو جاپان اور جرمنی بناتے ہیں۔ چین کی اقتصادی ترقی میں بیرونی سرمایہ کاری کا بڑا ہاتھ ہے۔ انیس سو اٹھہتر سے چین میں جو صنعتی پیداوار تیار ہوئی ہے اس کے ایک تہائی حصہ کے پیچھے دنیا سے جانے والے آدھے کھرب ڈالر کا ہاتھ ہے۔ یہ سرمایہ پوری دنیا سے چین میں گیا۔ بیرونی سرمایہ کاری کو کھینچنے میں چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ماضی میں دنیا کے سرمایہ کاروں کا زیادہ پیسہ امریکہ میں جایا کرتا تھا۔ تاہم سنہ دو ہزار تین میں امریکہ میں تو چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ چین میں ترپن ارب ڈالر کی۔ غیرملکی کمپنیوں کی وجہ سے چین اب دنیا کا تیسرا بڑا تجارتی ملک ہے۔ یہ تجارت میں جاپان سے بھی آگے ہے۔ سب سے بڑا تجارتی ملک امریکہ اور دوسرا جرمنی ہے۔ چین میں جو تیز معاشی ترقی ہورہی ہے اس سے ایک نیا متوسط طبقہ وجود میں آرہاہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ چین کی ڈیڑھ ارب آبادی میں سے ایک چوتھائی بھی نہیں بلکہ صرف پانچ کروڑ خاندانوں کا متوسط طبقہ کی ذیل میں آجانا اس بات کے لیے کافی ہے کہ پوری دنیا کے سرمایہ کار اس کی منڈی کے پیچھے دوڑنے لگیں۔ مصنف ٹیڈ فش مین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک صدی میں امریکہ کی معیشت ایک سو اٹھارہ ارب ڈالر کی مالیت سے ترقی کرکے دس کھرب ڈالر تا جا پہنچی۔ اس دوران امریکی معیشت میں اکیس کساد بازاریاں ہوئیں، ایک بڑا مندہ آیا اور دو بار اسٹاک مارکٹ ڈوبی۔ تاہم اس کی معیشت ستائیس گنا بڑی ہوگئی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ چین کی معاشی ترقی بھی ایک ایسی صدی سے گزر رہی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ دنیا میں اگر کسی ملک کی معیشت امریکہ سے آگے بڑھ سکتی ہے تو وہ چین ہی ہے۔ (اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ چین کی زبردست معاشی ترقی سے دنیا کی معاشی منطر نامہ کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔) |
اسی بارے میں احتجاج صرف کارٹونوں کے خلاف نہیں15 February, 2006 | پاکستان بش دورے سے توقعات کو جھٹکا04 March, 2006 | پاکستان کالاباغ سے پہلے بھاشا اور منڈا: اخبار کیا کہتے ہیں19 January, 2006 | پاکستان انسانی ہمدردی یا کچھ اور03 November, 2005 | پاکستان زلزلہ سیاست میں کیا گل کھلائے گا28 October, 2005 | قلم اور کالم قوم پرستی اور شناخت کی سیاست05 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||