BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 April, 2006, 02:32 GMT 07:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی عالمی سیاست

سونیا شاہ کی کتاب’ کروڈ: دی سٹوری آف آئل‘ کا کور
سونیا شاہ اپنی کتاب ’کروڈ۔ تیل کی کہانی‘ میں کہتی ہیں کہ تیل کو کوئلہ کی جگہ لینےمیں ایک صدی کا عرصہ لگا۔ یہی وہ مدت ہے جب دنیائے سیاست میں کوئلہ سے مالا مال برطانیہ کی جگہ تیل سے مالا مال امریکہ نے لی۔

وہ کہتی ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب امریکہ کو اس بات کا احساس ہوا کہ امریکہ کے اپنے تیل کے ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں تو انیس سو چوالیس میں امریکی صدر روز ویلٹ نے مشرق وسطی کے تیل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔

مصنف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے برطانیہ سے مل کر مشرق وسطی کا تیل حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی۔

وہ مورخ ڈینئل یرگن کا حوالہ دیتی ہیں جو کہتے ہیں کہ ’روز ویلٹ نے برطانیہ کے سفیر سے ملاقات میں انہیں ایک خاکہ دکھایا جس میں انہیں کہا کہ ایران کا تیل آپ کا ہے۔ عراق، کویت کے تیل میں ہم دونوں حصہ دار ہیں اور سعودی عرب کا تیل ہمارا (امریکہ کا) ہوگا۔‘

مصنف کا کہنا ہے کہ انیس سو چھپن میں تیل کے ذخائر کے بارے میں ایک اہم بات سامنے آئی جسے تیل کی کمپنیوں نے چھپانےکی خاصی کوشش کی۔

اس سال ماہر ارضیات کنگ ہیوبرٹ نے اعلان کیا کہ امریکہ میں ٹیکساس اور اوکلاہاما میں تیل کے ذخیرے انیس سو ستر میں اپنے عروج پر پہنچ جائیں گے اور اس کے بعد وہاں سے نکلنے والے تیل کی مقدار کم ہوجائےگی۔

مصنف کا کہنا ہے کہ مغرب میں تو تیل کی دولت سے خوشحالی آئی اور متوسط طبقہ بھی فیض یاب ہوا لیکن مشرق وسطی جہاں سے تیل نکالاجاتا تھا وہاں کے لوگ سیاسی خودمختاری سے محروم اور جھگڑوں میں پھنسے رہے۔

مثلاً برٹش پیٹرولیم اور برطانیہ کی حکومت نے انیس سو پینتالیس اور انیس سو پچاس کے درمیان ایران کے تیل سے ڈھائی سو ملین پاؤنڈ منافع میں کمائے جبکہ ایران کو رائلٹی کی صورت میں صرف نوے ملین پاؤنڈ ملے۔

مغرب میں تیل کی دولت سے خوشحالی آئی لیکن جہاں تیل نکلتا تھا وہاں لوگ جھگڑوں میں پھنسے رہے

ان کا کہنا ہے کہ انیس سو اڑتالیس میں جب برطانیہ نے فلسطین پر اپنا قبضہ چھوڑا تو وہاں کے یہودی لوگوں کو چھپن فیصد علاقہ کا قبضہ دے دیا جبکہ ان کی آبادی میں شرح چھ فیصد تھی۔

گویا اسرائیل کا قیام اسی عرصہ میں آیا جب امریکہ اور برطانیہ مشرق وسطی کے تیل کے حصول کے لیے اشتراک کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انیس سو ساٹھ میں اوپیک کے نام سے اپنی تنظیم بنائی جس میں اب نائجیریا اور وینیزویلا بھی شامل ہیں۔

تیل میں بتدریج کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انیس سو پچاس تک امریکہ میں تیل کے تمام بڑے ذخائر میں کنویں کھودے جاچکے تھے اور مشرق وسطی میں تیل کے تمام ذخائر کی نشان دہی کی جا چکی تھی۔

جوں جوں تیل کا حصول مشکل ہوتا گیا تو اس کے لیے جنگ میں استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی جیسے سسموگرافی استمعال کی جانے لگی۔

انیس سو سترمیں ان کوششوں کے نتیجہ میں برطانیہ میں شمالی سمندر (نارتھ سی) میں تیل دریافت ہوا اور امریکہ میں الاسکا میں۔

انیس سو تہتر میں زمین روزانہ ساڑھے پانچ کروڑ بیرل تیل اگل رہی تھی جس کا نصف مشرق وسطی سے نکالا جا رہا تھا۔

عرب اسرائیل جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کی مدد کی تو عرب ملکوں نے دنیا کو تیل کی فراہمی بند کردی۔ تیل کے اس بحران کی وجہ سے امریکہ میں انیس سو ستر اور انیس سو اسی کے درمیان روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں دگنی ہوگئیں اور بے روزگاری پھیل گئی۔

انیس سو ستر کا تیل کا بحران تیسری دنیا کے ملکوں کے لیے بھی بہت مہنگا ثابت ہوا

صدر رچرڈ نکسن نے اس وقت طاقت کے زور پر مشرق وسطی کے تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرنے پر غور کیا لیکن ان کے فوجی ویت نام میں پھنسے ہوئے تھے۔

انیس سو اناسی میں تیل کا دوسرا بحران ایران کے اسلامی انقلاب کی صورت میں آیا۔ اس موقع پر صدر جمی کارٹر نے امریکی خارجہ پالیسی کا اصول ’کارٹر ڈاکٹرین‘ پیش کیا۔

اس اصول میں کہا گیا کہ ’آئندہ امریکہ مشرق وسطی کے تیل کی فراہمی کے راستے میں آنے والی کسی بھی معاندانہ کارروائی کو دور کرنے کے لیے کوئی بھی ذریعہ استعمال کرے گا۔‘

مصنف کا کہنا ہے کہ انیس سو اکیانوے میں صدر بش سینئر کے زمانے میں امریکہ کا عراق پر حملہ اسی کارٹر اصول کے تحت کیا گیا کیونکہ عراق نے کویت کے تیل پر قبضہ کرلیا تھا۔

انیس سو ستر کا تیل کا بحران تیسری دنیا کے ملکوں کے لیے بھی بہت مہنگا ثابت ہوا۔ انہوں نے مہنگا تیل خریدنے کے لیے دنیا کے تجارتی بنکوں سے اربوں ڈالر کے قرضے لیے اور ان کے بیرونی قرضوں کا حجم دس کروڑ ڈالر سے بڑھ کر سوا کھرب ڈالر سے زیادہ ہوگیا۔

ان قرضوں کا سود ادا کرنے پر ان غریب ملکوں کی دولت امیر ملکوں کے بنکوں میں منتقل ہونے لگی۔

انیس سو ستر میں عرب ملکوں کے تیل کی فراہمی بند کرنے پر مشرق وسطی کے تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکہ نے اربوں ڈالر الاسکا کے برفانی خطہ میں تیل نکالنے پر خرچ کیے لیکن یہ بہت مہنگا کام ثابت ہوا۔ تاہم امریکہ نے تیل کے استعمال میں کمی نہیں کی۔

(تیل کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ماحولیات پر کیا اثرات ہوئے اور تیل پر مبنی اس تہذیب کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے، دیکھیے گا تیسری اور آخری قسط میں)

تیلایران جوہری معاملہ
تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا خدشہ
تیل کی کہانیتیل کی کہانی
تیل کے ارتقاء سے تیل کی سیاست تک
اسی بارے میں
تیل کی بچت کیلیے 2 چھٹیاں
10 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد