تیل کی بچت کیلیے 2 چھٹیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیشی حکومت نے ملک میں سرکاری طور پر ہفتے میں دو چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اب بنگلہ دیش میں ہر جمعہ اور ہفتے کو ہفتہ وار چھٹی ہوا کرے گی تاہم کام کے اوقات میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے روزانہ کے اوقاتِ کار میں ایک گھنٹے کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے دو چھٹیاں دینے کا فیصلہ ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران کی بناء پر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور ملک میں اس برس فصل کم ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی معیشت سخت دباؤ میں ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ قوت کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ پانچ دن کام سے ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی آئے گی اور اس سے نہ صرف تیل کی بچت ہوگی بلکہ تیل کی درآمد میں استعمال ہونے والا قیمتی زرِمبادلہ بھی بچے گا‘۔ بنگلہ دیشی ماہرِ اقتصادیات ابو البرکات کا کہنا ہے کہ دو ہفتہ وار تعطیلات سے صرف تیل کے مد میں حکومت کو سالانہ بارہ ملین ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔ کپڑے تیار کرنے والی کچھ نجی کمپنیوں نے دو چھٹیوں کے اس فیصلے پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بنگلہ دیش گارمنٹس مینوفیکچرر اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر انیس الحق نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے کہ جب کپڑوں کی صنعت ترقی کر ہی ہے اور بنگلہ دیش جیسا ملک دو چھٹیوں جیسی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا‘۔ ڈھاکا میں جمعہ کو شہر میں چلنے والی ٹرانسپورٹ پر رش دیکھنے میں آیا اور بہت سے لوگ ان دو چھٹیوں کا فائدہ اٹھ کر اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے اور سیر کرنے کیلیے نکلے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||