بنگلہ دیش بھر میں تین سو دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں مختلف مقامات سے کم سے کم تین سو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ دھماکے تقریباً ایک ہی وقت میں ہوئے۔ دھماکوں میں دو افراد کی ہلاکت اور پچاس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس اہلکار عبدالقیوم نے اے ایف پی کو بتایا ’ملک بھر میں دھماکے ہوئے ہیں۔ ہمیں کچھ افراد کے زخمی ہونے کی خبریں ملی ہیں لیکن کسی کےہلاک ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے‘۔ جن مقامات پر دھماکے ہوئے ان میں بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ اور بندرگاہ چٹاگانگ شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے سرکاری عمارات اور عدالتوں کے سامنے اور بازاروں میں ہوئے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ابھی انہیں نہیں معلوم کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ کچھ مقامات پر دھماکوں والی جگہ سے غیر قانونی تنظیم جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش کے کتابچے ملے ہیں۔ ان کتابچوں میں بنگلہ دیش میں اسلامی نظام کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کتابچوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ اسلامی ممالک سے نکل جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||