BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 February, 2005, 07:02 GMT 12:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشتی ڈوبنے سے111 افراد ہلاک
News image
بنگلہ دیش میں گنجائش سے زائد مسافر بٹھانے کی وجہ سے ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں
بنگلہ دیش میں کشتی ڈوبنے سے ایک سو گیارہ افراد ہلاک جبکہ درجنوں مسافر ابھی تک لاپتہ ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت ایم وی مہاراج نامی کشتی میں دو سو افراد سوار تھے۔

حادثہ سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب دریائے بوڑی گنگا میں پگلہ بازار کے مقام پر پیش آیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے امدادی کام شروع کر دیا گیا ہے۔

اگرچہ حکام نے طوفان کو کشتی کے ڈوبنے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے لیکن بنگلہ دیش میں کشتیاں عام طور پر غیر محفوظ سمجھی جاتی ہیں اور گنجائش سے زائد مسافر بٹھانے کی وجہ سے ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ آٹھ سال میں کشتی ڈوبنے کے دو سو ساٹھ واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ مئی میں ایک رات کے دوران ہونے والے کشتی ڈوبنے کے واقعات میں اکیاسی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد