کشتی ڈوبنے سے111 افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں کشتی ڈوبنے سے ایک سو گیارہ افراد ہلاک جبکہ درجنوں مسافر ابھی تک لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت ایم وی مہاراج نامی کشتی میں دو سو افراد سوار تھے۔ حادثہ سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب دریائے بوڑی گنگا میں پگلہ بازار کے مقام پر پیش آیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے امدادی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ حکام نے طوفان کو کشتی کے ڈوبنے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے لیکن بنگلہ دیش میں کشتیاں عام طور پر غیر محفوظ سمجھی جاتی ہیں اور گنجائش سے زائد مسافر بٹھانے کی وجہ سے ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ آٹھ سال میں کشتی ڈوبنے کے دو سو ساٹھ واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ مئی میں ایک رات کے دوران ہونے والے کشتی ڈوبنے کے واقعات میں اکیاسی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||