بنگلہ دیش میں پھر ہڑتال کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حزب اختلاف نے وزیراعظم خالدہ ضیاء کو قبل از وقت انتخابات کرانے پر مجبور کرنے کے لیے پیر کو ایک بار پھر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یہ گزشتہ پانچ روز میں حزب اختلاف کی جانب سے تیسری ہڑتال ہوگی۔ حزب اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ کی اپیل پر ملک بھر مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائیوں پر حتجاج بھی کیا جائے گا۔ اس سے قبل دونوں ہڑتالوں کے دوران تشدد اور تصادم کی صورتحال رہی ہے اور ہڑتال کی وجہ سے کاروبار زندگی اورمواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وزیراعظم خالدہ ضیاء نے مظاہرین کو تنبیہ کی ہے کہ اس صورتحال میں اب حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنی حکمراں جماعت کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے سختی سے نمٹے گی۔ بنگلہ دیش میں حزب اختلاف عوامی لیگ کی طرف سے گزشتہ تین دنوں میں دو ہڑتالیں کی جاچکی ہیں۔ پولیس نے احتجاج اور پتھراو کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ عوامی لیگ کے کارکن عبدالجلیل نے کہا کہ جمعرات کوہونے والے احتجاج پر پولیس کے لاٹھی چارج سے سینکڑوں لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ آئین میں مقررہ کردہ حد کے مطابق بنگلہ دیش میں اکتوبر دو ہزار چھ میں الیکشن ہوں گے۔ جمعرات کو پولیس اور عوامی لیگ کے کارکنوں میں ہونے والے تصادم میں پارٹی کے انتظامی سیکریٹری صابر حسین چوہدری بھی زخمی ہوگئے تھے۔ صابر حسین چوہدری کو سرمیں چوٹ لگنے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا۔ عوامی لیگ کی اپیل پر کی جانے والی ہڑتال میں ٹرانسپورٹر بھی شامل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے اشیاِ ضرورت کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||