’ کرپشن ختم کرو: قرض لو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بینک کےصدر پال ولفوٹس نے کہا ہےکہ بنگلہ دیش میں کرپشن اس کی معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ سے ایک ملاقات میں انہوں نے واضح کیا کہ ادارے کی جانب سے مستقبل میں کسی بھی مالی مدد کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ بنگلہ دیش میں کرپشن ختم کی جائے۔ عالمی بینک کےصدر پال ولفوٹس ان دنوں جنوبی ایشیا کےدورے پر ہیں۔ بینک کاصدر بننے کے بعدیہ ان کا اس خطے کا پہلا دورہ ہے۔ بنگلہ دیش اس دورے کا آخری مرحلہ ہے۔ انہوں نے پچھلے دس سال میں بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی رفتار میں پانچ فیصد اضافے کی تعریف کی۔ برلن سے تعلق رکھنے والی ایک اینٹی کرپشن تنظیم ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل نےمسلسل چوتھی بار بنگلہ دیش کو بدعنوانی میں سرفہرست قرار دیا ہے۔ بنگلہ دیش نےمذکورہ تنظیم کی جانب سےممالک کی درجہ بندی پر شک وشبہ کا اظہار کیا ہے۔ صدر پال ولفوٹس نے کہا کہ مسائل کی نشاندہی تو آسان ہے مگر ان کا حل کیا جانا مشکل کام ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ سیف الرحمن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے ملاقات کے بعد بتایا کہ بنگہ دیش کو توانائی کے شعبے میں فنڈ کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ اس سے قبل بنگلہ دیش کودیے جانے والےقرض کا درست استعمال نہیں کیےگئے۔ سیف الرحمن نے بتایا کہ حکومت نے ادارہ جاتی کرپشن کے خاتمےکے لیے اینٹی کرپشن کمیشن بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں محاذ آرائی کی سیاست کے باعث ملک کی معاشی ترقی کی شرح میں محض آٹھ فیصد اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کےساٹھ ملین افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عالمی بینک کے صدر نے بنگلہ دیش میں ہونے والےحالیہ بم دھماکوں کے بعد ملک میں سکیورٹی کے مسئلہ پر کچھ تبصرہ کرنے سےگریز کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||