بنگلہ دیش گدھے در آمد کرے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش نے بنیادی ڈھانچے کی کمی پوری کرنے کے لیے بھارت سے گدھے درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلی کھیپ میں بیس گدھے درآمد کیے جائیں گے جو چٹاگانگ کی پہاڑیوں پر سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ بنگلہ دیش گدھوں کی آبادی موجود نہیں ہے۔ ایک حکومتی اہلکار کے مطابق اس علاقے میں روڈ بنانا بہت ہی مشکل اور مہنگا کام ہے اس لیے گدھوں کو باربرداری کے لیے استعمال کرنے کا سوچا گیا ہے۔ ڈیپٹی منسٹر مانی سواپون دیوان نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں سامان کی ترسیل کے لیے گدھوں کا استعمال ہی مناسب ہے۔ انہوں نے کہا نیپال اور بھوٹان میں گدھوں اور خچروں کو پہاڑی علاقوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ چٹاگانگ کے پہاڑی سلسلے میں سڑکیں بہت ہی کم ہیں اور جو تھیں وہ بھی بغاوت کی نذر ہو گئیں۔ ڈیپٹی منسٹر نے کہا کہ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مزید گدھے برآمد کیے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||