BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 April, 2006, 06:11 GMT 11:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کہانی: ارتقاء سے سیاست تک

کتاب کے سرورق کا عکس
سونیا شاہ کی کتاب کے سرورق کا عکس
امریکی صحافی سونیا شاہ کی کتاب’ کروڈ۔ تیل کی کہانی‘ ڈھائی سو صفحوں پر مشتمل معلومات کا خزانہ ہے جس میں سائنس، تاریخ، تہذیبی ارتقاء، ماحولیات اور عالمی سیاست کا گہرا تعلق سامنے آتا ہے۔

کتاب کے بارہ ابواب میں بڑی تفصیل اور دلچسپ انداز میں یہ کہانی بیان کرتی ہے کہ کس طرح امریکہ میں تیل کی دریافت ہوئی، اس کے کنٹرول کے لیے بڑے بڑے کاروباری ادارے وجود میں آئے، دنیا بھر میں تیل کے ذخائر پر قبضے کےلیے عالمی سیاست اور جنگیں ہوئیں، تیل پیدا کرنے والے خطوں کے لوگوں کو کیسے نقصانات برداشت کرنا پڑے اور اس تیل کے استعمال سے زمین کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔

سونیا شاہ اپنی کہانی کی ابتداء مشہور مصنف رشارڈ کیپوش چنسکی کے اس اقتباس سے کرتی ہیں۔ ’تیل ایک بالکل تبدیل شدہ زندگی کا فریب نظر پیدا کرتا ہے۔ ایک ایسی زندگی جس میں کام نہیں کرنا پڑتا اور جو مفت ہے۔۔۔ تیل کا تصور انسان کے اس دائمی خواب کا اظہار ہے جس میں دولت اچانک خوش قسمتی سے حاصل ہوجاتی ہے۔۔۔ ایک طرح سے تیل ایک پریوں کی کہانی ہے اور ہر پریوں کی کہانی کی طرح یہ کچھ جھوٹ بھی ہے۔‘

 اگر دنیا میں تیسری جنگ عظیم ہوئی تو امریکہ کو یہ جنگ کسی اور ملک کے تیل کے ساتھ لڑنا پڑے گی کیونکہ دنیا میں تیل کی سلطنت کے طور پر امریکہ کی برتری کم ہوگئی ہے۔
امریکی سیکرٹری داخلہ ہیرالڈ آئکس، 1943

یہ کتاب تیل کی کہانی سینکڑوں لاکھوں سال پہلے سے شروع کرتی ہے جب تیل سمندر میں رہنے والے خردبینی اجسام کے ذریعے زمین میں بننا شروع ہوا۔ ان خردبینی اجسام نے لاکھوں سال تک ہوا سے کاربن جذب کی اور پھر انہی اجسام کی کاربن زیر زمین چٹانوں میں تیل کی شکل اختیار کرگئی۔

تیل کی ابتداء کوئلہ کے زوال سے شروع ہوتی ہے۔ سولہویں صدی کے وسط میں انگلستان میں جنگلات بہت کم ہونا شروع ہوگئے تھے اور کوئلہ ایندھن کے طور پر جگہ بنانے لگا۔ اٹھارہویں صدی کے وسط تک انگلستان کی زمین میں کم گہرائی میں پایا جانے والا کوئلہ بھی ختم ہونا شروع ہوگیا تھا۔

اٹھارہ سو پچاس میں امریکہ میں پینسیلونیا کے مقام پر لوگوں نے اپنی جھیلوں اور ندیوں پر ایک کالی گریس کی شکل میں تیل دریافت کیا جس کا ایک گیلن پانچ کلوگرام بہترین کوئلہ کے برابر توانائی مہیا کرتا تھا۔ اٹھارہ سو باسٹھ میں پینسیلونیا میں تیل کے لیے کنویں کھود کر تیس لاکھ بیرل تیل سالانہ نکالا جانے لگا۔ شروع میں تیل (پیٹرولیم) کا استعمال زیادہ تر کیروسین یا مٹی کے تیل کے لیے کیا جاتا تھا جس سے لالٹینیں جلا کر گھروں کو روشن رکھا جاتا تھا۔

امریکہ میں تیل کا ایک کنواں

پینسیلوینیا کے ذخائر ختم ہونے لگے تو بعد امریکی ریاستوں اوہایو اور انڈیانا میں تیل نکالا گیا۔ امریکہ کے بڑے کاروباری شخص راک فیلر نے تیل کے کاروبار پر اپنی اجارہ داری قائم کی اور دولت کے انبار لگائے۔

تیل کی کہانی ذرائع آمد ورفت کے ارتقاء سے جڑی ہوئی ہے۔ جب تیل دریافت ہوا تو امریکہ میں ٹرانسپورٹ کے طور پر لوگ گھوڑے اور ٹرین استعمال کرتے تھے۔ ریل گاڑی کوئلہ سے چلتی تھی۔ جلد ہی بائسیکل دریافت ہوگئی تو لوگوں نے کم فاصلے کے سفر کے لیے ٹرین کا استعمال کم کرنا شروع کردیا ۔

اٹھارہ سو اناسی میں تھامس ایڈیسن نے بجلی کا بلب ایجاد کیا جس سے گھر روشن کرنے کے لیے کیروسین کا استعمال کم ہونے لگا۔ تاہم چار سال بعد اٹھارہ سو اڑسٹھ میں جرمن انجینئر کارل بینز نے بائسیکل اور موٹر کوملا کر تین پہیوں والی موٹر کار ایجاد کر لی جو مٹی کے تیل سے چلتی تھی۔

اٹھارہ سو ترانوے میں امریکہ میں بھی مٹی کے تیل سے چلنےوالی تین پہیوں والی اور سنہ انیس سو میں چار پہیوں والی موٹر گاڑی بنالی گئی۔ یہاں سے ایک نئی تاریخ شروع ہوتی ہے۔

جلد ہی امریکہ میں کاروں کی پیداوار یورپ سے بھی زیادہ ہوگئی۔ انیس سو نو میں ہنری فورڈ نے عوام کے لیے بڑی تعداد میں کاریں بنانے کا اعلان کردیا۔ ایک سال بعد ہی ان کی عوام کے لیے بنائی گئی ماڈل ٹی کار سڑکوں پر آگئی۔ کاروں کی وجہ سے تیل کا استعمال بڑھتا گیا۔

ہنری فورڈ اپنی ایجاد کردہ کار کے ہمراہ

انیس سو سات میں امریکی سڑکوں پر چالیس ہزار کاریں تھیں۔ انیس سو پچپن میں امریکہ میں پانچ کروڑ رجسٹرڈ کاریں تھیں جبکہ انیس سو پچھہتر میں ان کی تعداد دس کروڑ سے زیادہ تھی۔

انیس سو نو میں ہی برطانیہ نے اپنے بحری جہازوں کو کوئلہ کی بجائے تیل سے چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ برطانیہ کے پاس اپنا تیل نہیں تھا۔ اس نے ایران سے تیل حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اینگلو پرشین آئل کمپنی کی بنیاد رکھی گئی اور برطانوی بادشاہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کمپنی کی ایران کے تیل کے وسیع ذخائر تک رسائی ہو۔

دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کے بیس لاکھ فوجیوں کو مشرقی ساحل تک پہنچانے کے لیے موٹر گاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ اور برطانیہ پر مشتمل اتحادی افواج نے اپنی تیل سے چلنے والی گاڑیوں سے کوئلہ سے گاڑیاں چلانے والے جرمنی کو شسکت دی۔

پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر برطانیہ کے لارڈ کرزن نے اعلان کیا کہ اتحادیوں کو اپنے مقاصد میں فتح تیل کی بدولت ملی ہے۔

اسی اثناء میں امریکہ میں ٹیکساس میں تیل کی دریافت ہوئی اور تیل سے بنی ہوئی پلاسٹک کی مصنوعات کا رواج شروع ہوا۔پلاسٹک تیل سے بنتا ہے۔پلاسٹک کے فروغ کے لیے امریکی حکومت نے پیٹروکیمیکل صنعت میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور حکومت نے اپنے کروڑوں ڈالر مالیت کے پیٹروکیمیکل پلانٹس بہت ہی کم قیمت پر ایکسون اور ڈیو پوں جیسے کاروباری اداروں کو دے دیے۔

انیس سو چالیس کی دہائی تک امریکہ کے اندر (ٹیکساس، اوکلوہاما، کیلیفورنیا وغیرہ) ہی تیل کی اتنی پیداوار تھی کہ اسے باہر سے تیل کی ضرورت نہیں تھی لیکن دوسری جنگ عظیم میں اس کا اتنا زیادہ استعمال ہوا کہ تیل نکالنے کے لیے امریکہ کو اپنے کنویں بہت گہرے کھودنے پڑے۔

انیس سو تینتالیس میں امریکہ کے سیکرٹری داخلہ ہیرالڈ آئکس نے کہا کہ اگر دنیا میں تیسری جنگ عظیم ہوئی تو امریکہ کو یہ جنگ کسی اور ملک کے تیل کے ساتھ لڑنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیل کی سلطنت کے طور پر امریکہ کی برتری کم ہوگئی ہے۔

(اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے کیسے تیل کی عالمی سیاست کو جنم دیا۔)

اسی بارے میں
یوریشیا پر کنٹرول کی امریکی جنگ
15 March, 2006 | قلم اور کالم
لاطینی انقلاب، امریکہ کی پریشانی
01 September, 2005 | قلم اور کالم
چین کی قابلِ رشک معاشی ترقی
26 January, 2005 | قلم اور کالم
بش اور خاندانِ سعود کے رشتے
27 October, 2004 | قلم اور کالم
آذربائجان کی معیشت اور تیل
28 July, 2004 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد