BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 July, 2004, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آذربائجان کی معیشت اور تیل

تیل کے کنویں
آذربائیجان کے دارالحکومت باکوں میں تیل کی صنعت
باکو پہنچ کر جو چیز فوری طور پر میری توجہ کا مرکز بنی وہ شہر کی بڑی سڑک کے ساتھ ساتھ اور خاص طور پر ساحل کے گرد بچھا ہوا تیل کے پائپ لائن کا ایک جال تھا۔

اس سے پہلے کہ میں شہر کے تاریخی قلعے کی قدیم عمارتوں اور صدیوں پرانے شیرواں شاہ کے محل کے سادہ لیکن مخصوص اسلامی طرز تعمیر کے حسن سے متاثر ہوتی یا نظامی عجائب گھر اور دوسرے ثقافتی مراکز اور عمارات سے لطف اندوز ہوتی ، شہر کے بارے میں میرے ذہن میں طبیعت کو بوجھل کر دینے والے ایک صنعتی شہر کا تاثر قائم ہوا۔

جونہی آپ شہر کی بڑی شاہراہ پہ نکلیں جو ہلال نما ساحل کے ساتھ ساتھ چلتی ہے تو دونوں کناروں کے گرد سمندر کے اندر دور تک تیل کے کنووں کا ایک آہنی جنگل نظر آتا ہے۔ ساحل کے قریب پہنچنے پر سیاہ تیل کی ایک موٹی سی تہہ پانی کی سطح پر تیرتی نظر آتی ہےجو لہروں کے جھکولوں سے ساحل پہ جمع ہو رہی ہے ۔

ملک کی شمال مشرقی سرحد کی جانب جانے والی سڑک کے ساتھ دور تک یہ پائپ لائن چلی جاتی ہے جس کے آس پاس کہیں کہیں ایک گھڑ سوار نگرانی کرتا نظر آتا ہےکیونکہ یہ پائپ لائن ہمسایہ ملک جارجیاجا رہی ہے جہاں سے امید ہے کی اگلے تین برسوں میں یہ بحیرہ روم پر ترکی کی بندر گاہ جیہان تک پہنچ جائیگی۔ وہاں سے باکو کا تیل ٹینکروں کے ذریعے مغربی ممالک کی منڈیوں تک پہنچایا جائیگا۔

یہ قسمت کی ستم ظریفی ہے کہ جس چیز نے باکو جیسے خوبصورت شہر کوماحولیات کی تباہی کی ایک عبرتناک مثال بنا دیا ہے اسی سے ملک کی تمامتر امیدیں وابستہ ہیں۔ اور اسے بھی قسمت کا مزاق سمجھئے یا تاریخ کا حادثہ کہ جو ملک دنیا میں تیل پیدا کرنے والا قدیم ترین ملک ہےا سکی معیشت اب تک اس سے فیضیاب نہیں ہو سکی ۔ دو پرانی پائپ لائنیں اب بھی موجود ہیں ، ایک جارجیہ کی بندر گاہ سپسہ جاتی ہے اور دوسری روس لیکن بڑے گاہکوں یعنی مغربی منڈیوں تک تیل پہنچانے کے لیے یہ بہت لمبا راستہ ہے۔

تاریخ کی کتابیں کہتی ہیں کہ آذربائجان میں زمین کا تیل صدیوں سے راشنی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ قدیم زمانے میں تیل زمین سے جا بجا چشموں کی صورت میں جمع ہو جا تا تھا اور جلتا رہتا تھا لیکن صنعتی استعمال کے لیے وہاں پہلا کنواں 160 سال قبل شروع ہوا تھا۔ اس وقت اس علاقے پر روسی زاروں کی حکومت تھی۔ پر انیسویں صدی کے خاتمے تک تیل کے بڑے بڑے تاجروں نے جو اب آئل بیرن کہلاتے ہیں آذری تیل کے کنووں میں سرمایہ کاری شروع کی۔ انہیں میں نوبیل خاندان بھی شامل تھا جس نے آذری تیل سے خوب دولت کمائی اور نوبیل فنڈ قائم کیا جس سے ہر سال سائنس،معیشت، ادب اور امن کا نوبیل انعام دیا جاتا ہے۔

سمندر میں تیل
تیل سے ماحولیات پر بڑا برا اثر پڑ رہا ہے

جن صحافیوں کی ساتھ میں کام کر رہی تھی ان میں سب سے کم عمر لیکن خود اعتماد اور نہائت سمارٹ لڑکا رفعت تھا جس نے بتا یا کہ اس کی والدہ ڈاکٹر اور والد ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ پھر میرے پوچھنے پر بتایا کہ اصل میں وہ سووئیت یونین کے زمانے میں پروفیسر تھے لیکن اب چونکہ بیروزگاری ہے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ گانجا شہر کے مئیر سے میری اس موضوع پہ بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں بیروزگاری تقریباً 49 فیصد ہے اور عالمی بینک کے مطابق 50 فیصدلوگ غربت کا شکار ہیں ۔

یہ سب دیکھ کر جو سوال ذہن میں آتاہے وہ یہ ہے کہ جو ملک ایک صدی سے زیادہ عرصے سے تیل پیدا کر رہا ہے وہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں کی طرح دولتمند کیوں نہیں ہے۔ اس سوال کے جواب میں تقریباً سبھی نے سوویت یونین کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن اس کی صحیح وضاحت گانجا یونیورسٹی کے پروفیسر بختیار محرموو نے کی اور بتایا کہ پہلے تو تیل کی آمدنی زار روس کے کنٹرول میں تھی اور پھر 70 سال کمیونسٹ دور رہا جس میں با قاعدہ پالیسی کے طور پر ریاستوں کوخود کفیل ہونے نہیں دیا گیا اور مقامی معیشت کومضبوط نہیں کیا گیا۔ چنانچہ دوسری ریاستوں کی انڈ سٹری کا انحصار آذربائجان کے تیل پر تھا جس کا ستر فیصد ملک کے دوسرے حصوں کو بھیج دیا جاتا تھا جبکہ آذربائجان کو اپنی ضروریات کے لیے صنعتی اور دوسری اشیا دوسری ریاستوں سے لینی پڑتی تھیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ تیل کی آمدنی سے آذر بائجان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا اور سوائے ایک دو سیمنٹ کی بڑی فیکٹریوں کے نہ تو صنعت اور نہ ہی زراعت کو فروغ دیا گیا۔

اس بات کی تائید پاکستانی سفیر محمد حفیظ صاحب نے بھی کی اور بتایا کہ اتنا سرد ملک ہے لیکن چمڑے کی صنعت بالکل نہیں ہے اور پاکستانی چمڑے کی جیکٹوں کی اچھی مارکیٹ ہے ۔ چنانچہ مو سم سرما کے آغاز میں کچھ پاکستانی تاجر صرف جیکٹوں کا کاروبار کرنے آتے ہیں اور سردیاں ختم ہونے پر واپس چلے جاتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد