بش اور خاندانِ سعود کے رشتے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بش خاندان اور خاندانِ سعود‘ نامی اس کتاب میں مصنف اور امریکی صحافی کریگ اًنگر نے قدرے متنازعہ مگر بہت تحقیق پر مبنی مواد جمع کیا ہے جس میں امریکہ کی موجودہ انتظامیہ کی طرف سے مبینہ اسلامی دہشت گردی کی جو تصویر پیش کی جارہی ہے اسے چیلنج کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف کریگ اًنگر ایک مشہور صحافی ہیں۔ وہ نیو یارک آبزرور کے ڈپٹی ایڈیٹر اور بوسٹن میگزین کے ایڈیٹر انچیف رہ چکے ہیں۔ اًنگر ہمیں اس کتاب میں بتاتے ہیں کہ امریکی صدر جارج بش ، ان کے والد اور سابق امریکی صدر سینئر بش اور ان کے قریبی رفقا جیسے سابق امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر کی بے پناہ دولت اور اور ان کی سرکاری پالیسیاں سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ارکان سے جُڑی ہوئی ہیں۔ کریگ اًنگر تیس سال پر پھیلی امریکی انتظامیہ اور اسلام پسندوں کی اُس قربت کی کہانی کی تفصیلات بتاتے ہیں جس سے بعد میں بنیاد پرستی اور عسکریت پسندی کو فروغ ملا۔ اِنگر نے انیس سو بانوے میں ایران کونٹرا سکینڈل اور عراق گیٹ میں بش سینئر کے کردار پر دی نیو یارکر میگزین کے لیے تحقیق کی تھی تو انہیں پہلی بار سعودی حکمرانوں اور بش خاندان کے قریبی تعلق کا علم ہوا تھا۔ بُش خاندان اور سعودی عرب کے حکمران شاہی خاندان کے قریبی تعلق کی مختلف جُہتیں بتاتے ہوۓ مصنف نے بہت وضاحت سے بتایا ہے کہ ستمبر گیارہ کے واقعہ کے صرف دو دن کے بعد بُش انتظامیہ نے سعودی عرب کے ایک سو چالیس باشندوں کو کس طرح خصوصی اجازت سے جہاز کے ذریعے خفیہ طور پر امریکہ سے سعودی عرب جانے کی اجازت دی جبکہ امریکی فضا میں کسی قسم کی پرواز ممنوع تھی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال شاہی خاندانِ سعود اور بش خاندان میں تعلق کی ابتدا انیس سو ستر کی دہائی کے وسط میں ہوئی جب اوپیک کے تیل کی بندش کے دور میں تیل کی قیمتیں بہت چڑھ گئی تھیں تو خاندانِ سعود کے ارکان نے امریکہ کی طرف رجوع کیا۔ کریگ اًنگر کہتے ہیں کہ سعودی حکمرانوں کو امریکہ کی فوجی چھتری اور اپنے اربوں ڈالر کے پیٹرو ڈالرز کی سرمایہ کاری کے لیے مناسب جگہ چاہیے تھی جس کے لیے ان کی نظریں ایسے امریکی سیاستدانوں کی طرف تھیں جو ان کے ساتھی بن سکتے ہوں۔ مصنف کا دعوی ہے کہ بُش خاندان سے تعلق بن جانے سے سعودی شاہی خاندان کے ارکان کو صدر رونالڈ ریگن ، جارج بش سینئر اور جارج بش جونئیر، ڈک چینی ، جیمز بیکر، کولن پاول اور تمام انٹیلی جنس ایجینسیوں کے ڈھانچہ کے اندر تک براہ راست رسائی مل گئی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ بش اور سعود خاندانوں کا تعلق قائم ہونے کے بعد دونوں کی سرمایہ کاری میں شراکت ہوئی اور سیاسی اثر و رسوخ کا ایک دوسرے کے لیے استعمال کیا گیا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ جب جارج بش جونئیر صدر منتخب ہوئے تو اس وقت تک خاندانِ سعود ایک ارب سینتالیس ارب امریکی ڈالر مختلف کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بش خاندان کو منتقل کرچکا تھا۔ ان کمپنیوں میں ایک بڑی فرم کارلائل گروپ بھی شامل ہے جس کے تانے بانے برطانوی سیاستدانوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ مصنف کا یہ بھی دعوی ہے کہ جب سنہ دو ہزار میں بش جونئیر صدر منتخب ہوئے تو اس وقت ایک خفیہ حکمت عملی بنائی گئی تھی کہ امریکی مسلمان انہیں ووٹ ڈالیں جس نے بش کے جیتنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کریگ اًنگر نے مختلف امریکی اعلی حکام کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خاندان سعود نے انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میں اسلامی بنیاد پرستوں کو ابھرنے سے روکنے پر کوئی توجہ نہیں دی اور یہ انہیں غیرارادی طور پر ہی سہی پیسے مہیا کرتا رہا اور اس نے امریکہ سے تعاون کرنے سے انکار کیا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات پر بناۓ جانے والے کانگریس کے کمیشن کی رپورٹ میں خاندانِ سعود سے متعلق جو اٹھائیس صفحات تھے انہیں بش انتظامیہ نے سینسر کردیا اور شائع نہیں کیا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ کارلائل گروپ کے ایک سینئر رکن اور سابق امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر بھی بش خاندان کا اہم حصہ ہیں اور ان کا بھی خاندان سعود سے پرانا رشتہ ہے۔ اب بش انتظامیہ نے انہیں عراق کے سو ارب ڈالر کے قرضوں کی تشکیل نو کا نگران مقرر کیا ہے جبکہ ان میں سے پچیس ارب ڈالر کے قرضے سعودی عرب نے عراق کو دیے ہوئے ہیں۔
کریک اًنگر نے عراق پر حملہ کرنے کی بش انتظامیہ کی پالیسی پر بھی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات پر ردعمل کا میدان عراق کو بنا کر امریکہ دراصل اسامہ بن لادن کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن نے افغانستان میں سیکھا تھا کہ کس طرح ایک گوریلا جنگ کے ذریعے سوویت یونین ایسی ایک سُپر پاور کو شکست دی جاسکتی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ کیا اب امریکہ نے عراق میں اپنے ایک لاکھ پینتیس ہزار فوجی بھیج کر خود کو اسی جال میں نہیں پھنسا لیا جس میں سوویت یونین پھنسا تھا۔ کریگ اًنگر کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کے دو بڑے ہدف تھے ایک تو سعودی عرب سے امریکی فوجیں نکال لی جائیں اور دوسرے خاندان سعود کو اقتدار سے باہر نکالا جاۓ۔ مئی سنہ دو ہزار تین میں امریکی فوجیں اسامہ کی خواہش کے مطابق سعوی عرب سے نکال لی گئیں اور اب سعودی عرب کا خاندان بھی مشکلات کا شکار ہے جسے ملک میں ایک نچلے درجہ کی خانہ جنگی کا سامنا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اگر خاندانِ سعود سے حکومت چھن گئی تو زیادہ امکان یہ ہے کہ سعودی عرب میں ایسے انقلابی مولوی اقتدار میں آئیں گے جن کی ہمدردی اسامہ بن لادن کے ساتھ ہوگی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پالیسی ساز سعودی عرب میں کسی سیاسی بحران اور الٹ پلٹ کے وقت اس سے نپٹنے کے مختلف امکانی طریقوں پر سوچ رہے ہیں اور یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ ایسے وقت میں سعودی عرب کے تیل کے ذخائر پر امریکہ قبضہ کرلے لیکن بعض اہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا عملا ً ممکن نہیں۔ کریگ اًنگر کا کہنا ہے کہ جب ایران میں انیس سو اناسی میں اسلامی بنیاد پرست حکومت اقتدار میں آئی تو تیل کی قیمتیں بہت زیادہ اوپر چلی گئیں تھیں اور اگر سعودی عرب میں ایسا ہوگیا تو صورتحال اور زیادہ گھمبیر ہوگی کیونکہ سعودی عرب میں دنیا میں تیل کے کُل معلوم ذخائر کا ایک چوتھائی موجود ہے۔ دوسری طرف چین اور باقی ایشیا میں تیل کی کھپت بڑھتی جارہی ہے جس سے تیل کے لیے امریکہ کا اپنے حریفوں سے مقابلہ بڑھتا جائے گا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ امریکہ کو مستبل قریب میں جس چیلنج کا سامنا ہے وہ دو باتوں پر مبنی ہے۔ ایک تو اسلامی دہشت گردی اور دوسرے اس کے تیل کے بڑے منبع یعنی سعودی عرب کے اس سے چھن جانے کا امکان۔ مصنف پوچھتا ہے کہ امریکہ ان خطروں سے کیسے نپٹے گا جبکہ بش انتظامیہ نے اسامہ بن لادن کی بجائے صدام حسین کو ولن بنا کر اور عراق پر حملہ کرکے ایک ایسا فیصلہ کیا جو خطرناک ہے اور امریکہ کے لیے اسکی بھاری قیمت ہوسکتی ہے۔ کریگ اًنگر نے اس کتاب کے لیے سی آئی اے کے تین سابق ڈائریکٹروں اور اسرائیل اور سعودی عرب کے اعلی حکام کے علاوہ ایک سو سے زیادہ ان لوگوں کا انٹرویو کیا ہے جن کی رسائی اہم معلومات تک ہے لیکن ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ کریگ اِنگر کی کارلائل گروپ کے، جس میں بش اور سعودی عرب کے فرماں روا خاندان حصے دار ہیں، بڑے افسران تک بھی رسائی ہے۔
یہ کتاب امریکہ میں ایک خاص نقطہ نظر کو پیش کرتی ہے اور اس میں حقائق کو اس طرح چنا گیا ہے اور انہیں اس طرح ترتیب دی گئی ہے جس سے بش خاندان اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کو امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کے پیش کردہ تمام نتائج سے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی اس کے باوجود یہ کتاب امریکہ کی داخلی سیاست کی حرکیات اور اس پالیسی سازوں کے خدشات کو سمجھنے میں خاصی مددگار ہوسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||