یوریشیا پر کنٹرول کی امریکی جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’نئی امریکی سامراجیت‘ کے عنوان سے یہ کتاب دو مصنفین، ویزلی فوسکس اور بلند گوکے، کی مشترکہ کاوش ہے جس میں ان کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کی کرنسی ڈالر کی معاشی طاقت کم ہوتی جارہی ہے جسے وہ فوجی طاقت کے زور پر چین سے جرمنی تک کے خطہ یوریشیا پر کنٹرول حاصل کرکے دوبارہ بڑھانا چاہتا ہے۔ مصنفین دو مختلف یونورسٹیوں کے لیکچرار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اور جرمنی کے درمیان وسیع و عریض یوریشیا کا خطہ دنیا کے محور کی طرح ہے۔ یہ سیاسی، فوجی اور معاشی وجوہ کی بنا پر عالمی سیاسی شطرنج کی بساط بن چکا ہے۔ اس کتاب کے مطابق یوریشیا کے خطہ میں دنیا کی پچہتر فیصد آبادی رہتی ہے، دنیا کی کل مجموعی پیداوار (جی این پی) کا ساٹھ فیصد یہاں ہوتی ہے اور دنیا میں توانائی (انرجی) کے کل ذرائع کا پچہتر فیصد اس خطہ میں واقع ہے۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ یوریشیا کی طاقت اگر جمع ہوجائے تو امریکہ کی طاقت سے زیادہ ہے۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پالیسی یہ ہے کہ یوریشیا کے توانائی کے ذرائع پر کنٹرول حاصل کیا جائے اور تیل اور گیس کی ٹرانسپورٹ کے راستوں پر روس کی اجارہ داری ختم کی جائے کیونکہ تیل جدید عالمی معیشت کی زندگی اور خون ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ امریکہ کے لوگ ایک سال میں تقریبا ساڑھے پانچ سو ارب ڈالر توانائی پر خرچ کرتے ہیں جن میں سے آدھا خرچ تیل اور اس کی مصنوعات پر ہوتا ہے۔ امریکہ کے لیے تیل پر کنٹرول صرف اپنے مصرف کےلیے ہی نہیں بلکہ جاپان، یورپی یونین اور چین کو تیل پر کنٹرول کرنے سے روکنے کے لیے بھی ضروی ہے۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی نو سامراجیت نئی چیز نہیں بلکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں انیس سو پینتالیس سے دنیا پر سامراجی کنٹرول کامقصد پوشیدہ رہا ہے۔ انیس سو چالیس کی دہائی میں امریکہ سیکرٹری خارجہ ڈین ایچیسن اور پال نیتزے نے اس منصوبہ کی شروعات کی تھی۔ دفاعی معاہدہ نیٹو اور این ایس سی اڑسٹھ کے ذریعے اس کنٹرول کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ مصنفین کہتے ہیں کہ امریکہ نے دنیا پر کنٹرول صرف اپنی فوجی طاقت کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ اپنی کرنسی ڈالر کے ذریعے بھی کیا ہے۔ ڈالر کو دنیا بھر میں ریزرو کرنسی کا طاقتور رتبہ حاصل ہے۔ اس وقت دنیا میں تمام سرکاری غیرملکی زر مبادلہ کا دو تہائی حصہ ڈالر کی شکل میں ہے۔ امریکی ڈالر کو عالمی کرنسی کا یہ رتبہ دوسری جنگ عظیم میں یورپ اور جاپان کی تباہی کی وجہ سے حاصل ہوا تھا اور انیس سو چوالیس میں بنائے گئے برٹن وڈ نظام نے اسے ایک ادارہ کی شکل دی تھی۔ مصنفین کہتے ہیں کہ انیس سو اکہتر میں جاپان اور یورپی ملکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر اتنے بڑھ گئے کہ امریکہ کا بنایا ہوا نظام بیٹھ گیا۔ اُس وقت صدر نکسن نے ڈالر کا سونے سے تعلق ختم کردیا اور عالمی معیشت کو ڈالر کو معیاری کرنسی کے طور پر اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ اس کے چار سال بعد امریکہ نے انیس سو پچہتر میں تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے رکن ملکوں کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ وہ تیل (پٹرولیم) کی ادائیگی صرف امریکی ڈالر میں لیں گے۔ اس طرح امریکی کرنسی ڈالر کے لیے ایک بااعتماد منڈی وجود میں آگئی۔ اس وقت جاپان اپنی ضرورت کا نوے فیصد تیل مشرق وسطی سے خریدتا ہے اور اس کی ادائیگی ڈالر میں کرتا ہے جبکہ یورپ اوپیک کے مجموعی تیل کا ساٹھ فیصد خریدتا ہے اور اس کی ادائیگی ڈالر میں کرتا ہے۔ مصنفین کہتے ہیں کہ تیل کی ڈالر میں ادائیگی معاشی طور پر ایسا ہے جیسے امریکہ کو ان ملکوں سے بلاسود قرضے مل جائیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انیس سو ننانوے میں یورپی یونین کی کرنسی یورو متعارف کرائے جانے کے بعد امریکی ڈالر کی طاقت میں کمی آئی ہے۔ آج عالمی منڈی کا ایک چوتھائی یورپی یونین کی کرنسی یورو میں تجارت کرتا ہے۔ مصنفین کا موقف یہ ہے کہ عراق جنگ کے ذریعے امریکہ کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ وہ یورو کے مقابلہ میں ڈالر کو کو بچانا چاہتا ہے۔ امریکہ نے عراق پر قبضے کے فورا بعد اعلان کیا کہ عراق اپنے تیل کی تمام ادائیگی ڈالر کی صورت میں وصول کرے گا۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ اگر آج اوپیک کے ممالک یہ فیصلہ کریں کہ وہ تیل کی ادائیگی امریکی ڈالر کی بجائے یورو یا دونوں کرنسیوں کی صورت میں لیں گے تو دنیا میں امریکی معاشی غلبہ ختم ہوکر رہ جائے گا۔ مصنفین کے مطابق امریکہ کی معاشی طاقت میں ہونے والی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انیس سو پچاس میں دنیا کی ساٹھ فیصد صنعتی پیداوار امریکہ میں ہوتی تھی جبکہ انیس سو ننانوے میں یہ حصہ پچیس فیصد رہ گیا تھا۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ سنہ دو ہزار دو میں کسی بھی بڑی صنعت میں کوئی امریکی کمپنی غالب نہیں تھی۔ دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے معاشی شعبہ یعنی تجارتی خدمات میں امریکہ کا حصہ سنہ دو ہزار ایک میں چوبیس فیصد تھا جبکہ یورپ کا تئیس فیصد تھا۔ مصنفین کے خیال میں کمیونزم کے خطرہ کے خاتمہ کے بعد دنیا کے عالمی معاشی نظام میں امریکہ کی ضرورت ختم ہوگئی تھی۔ اب امریکہ کے سامنے یہ ہدف تھا کہ اپنی فاضل فوجی طاقت کو پوری دینا میں ایک ہمہ گیر امریکی نظام (پاس امریکانا) نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کنٹرول کے ذریعے اپنے اور اتحادیوں جیسے اسرائیل کے سیاسی اور معاشی مفادات کو فروغ دیا جائے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ امریکہ کی فوج اس وقت دنیا کے ایک سو پینتیس ملکوں میں (اقوام متحدہ کے رکن ملکوں میں سے ستر فیصد میں) تعینات ہے۔ مصنفین کا موقف ہے کہ اگر امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملے نہ بھی کیے جاتے تب بھی امکان یہی ہے کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں جنگ ضرور کرتا۔ مصنفین کے خیال میں امریکہ انسانی حقوق کے نعرہ سے اب دنیا کےلوگوں کو قائل نہیں کرسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے مفادات اور مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ کے پالیسی سازوں کو ایسے اخلاقی اصولوں کی تلاش ہوتی ہے جس سے دنیاکو دھوکہ دیا جاسکے۔ یہ پالیسی ساز سابق امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچیسن کی طرح خطرہ کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ان حالات میں گیارہ ستمبر کا واقعہ پیش آیا جس سے امریکہ کو وہ بھوت مل گیا جس کی اسے ضرورت تھی یعنی اسلامی دہشت گردی جسے بہانہ بنا کر امریکہ نے افغانستان اور عراق پر چڑھائی کردی۔ مصنفین کے مطابق امریکہ نے سوویت یونین کے زوال کے بعد جتنی فوجی کارروائیاں اور جنگیں کی ہیں وہ دراصل چین سے جرمنی تک پھیلے یورویشیا پر سیاسی، معاشی اور فوجی غلبہ اور اس کے توانائی کے وسائل کے لیے ہیں۔ |
اسی بارے میں انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا ایران، روس۔انڈیا بات چیت05 March, 2006 | انڈیا چین: دفاعی بجٹ میں 14 فیصد اضافہ04 March, 2006 | آس پاس افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس ’حملوں کا ذمہ دار ایران ہے‘13 March, 2006 | آس پاس ’ایران سلامتی کونسل کا امتحان‘ 10 March, 2006 | آس پاس گیس تنازعہ، اعلیٰ سفارتی رابطے03 January, 2006 | آس پاس شام کی سرحد پر امریکی آپریشن05 November, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||